پنجاب کا 45 فیصد بجٹ کس کی جیب میں جا رہا ہے ؟ فیاض الحسن چوہان نے باتوں باتوں میں بڑ ا انکشاف کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ پنجاب میں 45 فیصد بجٹ ترقیاتی کاموں پر لگ چکا ہے، پنجاب میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اخراجات کو 60 فیصد تک کم کیا گیا۔تفصیلات کے مطابق صوبہ پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار

نے آٹے کے بحران پر ایکشن لیا ہے، آٹا بحران پر 376 فلور ملز کے خلاف ایکشن لیا گیا۔ 170 فلور ملز کا کوٹہ منسوخ اور تقریباً سوا 9 کروڑ جرمانہ کیا گیا۔صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ عثمان بزدار نے قائدانہ صلاحیتوں کا استعمال کر کے بحران سے بچایا، پچھلے ڈیڑھ سال سے وزیر اعلیٰ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ پنجاب میں وزیر اعلیٰ ہاؤس کے اخراجات کو 60 فیصد تک کم کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ پہلی بار 35 فیصد بجٹ جنوبی پنجاب کے لیے مختص کیا گیا، اب جنوبی پنجاب کی تعمیر و ترقی سے متعلق کوئی شکوہ نہیں سنائی دیتا۔ قانون سازی کے عمل میں 40 سے زائد بلز منظور ہوئے ہیں۔ کسی بھی اسمبلی میں ایک سال میں اتنی قانون سازی نہیں ہوئی۔ پنجاب حکومت نے پہلے ہی سال 60 فیصد اضلاع میں صحت کارڈ جاری کیے۔فیاض چوہان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں 45 فیصد بجٹ ترقیاتی کاموں پر لگ چکا ہے، وزیر اعلیٰ پنجاب کی کارکردگی سے کابینہ اور ارکان صوبائی اسمبلی سو فیصد مطمئن ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہٹلر مودی کے اقدامات کی وجہ سے کشمیر میں کرفیو ہے، شہریت متنازعہ قانون پر پورا بھارت اس وقت سراپا احتجاج ہے۔ چین نے بھی کشمیر ایشو پر بھارت سے مؤقف کلیئر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عمران خان کی بدولت دنیا میں مسئلہ کشمیر بھرپور انداز میں اجاگر ہوا۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ خسرو بختیار نے کہا ہے کہ حکومت نے گندم کی فی من قیمت 1365 روپے مقرر کی ہے، کل سے گندم اور آٹے کی قیمت میں کمی آنا شروع ہوجائے گی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ خسرو بختیار نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ این ایل سی نے کل 9 ہزار ٹن گندم سندھ کو دی ہے، آج 10 ہزار ٹن گندم کراچی پہنچ جائے گی، سندھ حکومت نے اس سال ایک دانہ بھی گندم ذخیرہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ 28 ہزار ٹن گندم سندھ حکومت نے اٹھائی ہے، کے پی کے لیے 4 سے 5 ہزار ٹن گندم کی پبلک سیکٹر سے سپلائی بڑھا دی ہے، کل سے کے پی میں بھی 10 ہزار میٹرک ٹن گندم سپلائی ہوگی۔وزیر خوراک نے کہا کہ فوڈ ڈیپارٹمنٹ روزانہ کی بنیاد پر رابطے میں ہیں، ای سی سی میں کل کے پی کو ایک لاکھ ٹن گندم کی فراہمی کی تجویز دیں گے، سپلائی متاثر ہونے سے مشکلات کا سامنا ہے، کے پی کو پاسکو اپنے ذخائر سے ایک لاکھ ٹن اور گندم دے گی۔خسرو بختیار نے کہا کہ پنجاب کے پاس ذخائر موجود ہیں، پنجاب میں 20 کلو کا تھیلا 805 کی قیمت پر ہے، گندم کی اسمگلنگ بھی ہوتی ہے، چمن بارڈر پر 40 ہزار ٹن گندم ماہانہ اسمگل ہورہی تھی۔انہوں نے کہا کہ آٹے کا مصنوعی بحران اگلے تین سے چار روز میں ٹھیک ہوجائے گا، معیشت کی بہتری کے لیے سب جماعتوں کو سوچنا چاہئے، وفاقی حکومت عوام کی ضرورت کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔