مظفر آباد : برفباری اور تودے گرنے سے اب تک کل کتنی ہلاکتیں ہوچکی ہیں ؟ رپورٹ جاری

مظفر آباد(ویب دیسک) آزاد کشمیر میں برفباری اور لینڈ سلائیڈنگ کے بعد امدادی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ، وادی نیلم میں برفانی تودے کے ملبے سے گزشتہ روز نکالی گئی 12 سالہ ثمینہ نامی لڑکی مظفر آباد کے ہسپتال میں انتقال کر گئی جس کے بعد آزاد کشمیر میں برفباری کے

دوران جاں بحق افراد کی تعداد 78ہو گئی ۔سب سے زیادہ نقصان وادی نیلم کے علاقہ سرگن میں ہوا جس کے گاؤں بگولی میں برفانی تودہ گرنے سے 250 نفوس پر مشتمل آبادی کوخطرہ لاحق ہوگیا تھا۔وادی نیلم میں برفباری سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے ذیلی ادارے ایس سی او نے ٹیلیفون کے 5ہزار منٹ اور 5ہزار ایس ایم ایس مفت دینے کے پیکیج کا اعلان کردیا۔ آج سے 25 جنوری تک وادی نیلم کے عوام اس سہولت کا فائدہ اٹھا سکیں گے ۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ گزشتہ روز بھی جاری رہا جبکہ آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں برفانی تودے گرنے والے علاقوں میں پاک فوج کے جوانوں اور ریسکیو ٹیموں کی جانب سے امدادی کارروائیاں جاری رہیں ۔ برفباری سے متاثرہ پانچ مختلف جگہوں پر برف ہٹانے کیلئے مشینیں مسلسل کام کر رہی ہیں۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ وادی میں جس جگہ زیادہ نقصان ہوا وہ محفوظ جگہ تھی اور سب افراد نے جب وہاں پناہ لی تو برفانی تودہ گر گیا جس کے باعث اموات زیادہ ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر جام کمال نے کہا کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں برفباری کا 30سالہ ریکارڈ ٹوٹا ہے ۔