اگر میں نہیں تو تم بھی نہیں۔۔۔ سابق آئی جی سندھ کلیم امام نے غیر قانونی سرگرمیوں‌ میں‌ ملوث سندھ حکومت کے ’منظور نظر‘ پولیس افسران کے خلاف تہلکہ خیز رپورٹ جاری کر دی

کراچی(ویب ڈیسک) آئی جی سندھ ڈاکٹر کلیم امام نے 18 پولیس افسران کے خلاف شکایتی مراسلہ سندھ حکومت کو ارسال کیا مگر صوبائی حکومت ’منظور نظر‘ افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرسکی۔اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق آئی جی سندھ نے چند ماہ قبل سندھ حکومت کو 18 پولیس افسران کے خلاف رپورٹ

ارسال کی تھی جس میں اُن کے خلاف شکایات درج تھیں۔ آئی جی کی جانب سے بھیجے جانے والی رپورٹ اور خطوط کے باوجود صوبائی حکومت نے مذکورہ افسران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔آئی جی سندھ کی رپورٹ: ایس ایس پی فدا حسین شاہ: صوبائی پولیس کے سربراہ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایس ایس پی فدا حسین شاہ پر غیر قانونی بھرتیوں کا الزام ہیں، انہوں نے ٹنڈوالہٰ یار، حیدر آباد اور سکھر میں اثرورسوخ سے جعلی بھرتیاں کیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی جی سندھ نے تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایس ایس پی کی سروس واپس کردی اور فدا حسین کے خلاف کارروائی کے لیے حکومت کو خط بھی لکھا گیا مگر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ایس ایس پی غلام مرتضیٰ:رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایس ایس پی غلام مرتضیٰ کی ہدایت پر چھاپےمار کچھ لوگوں کو حراست میں لیا گیا اور پھر انہیں کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ ون غلام مرتضیٰ کے زیر استعمال کمرے میں رکھا گیا، زیرحراست افراد کی رہائی 2کروڑ14لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد ہوئی۔مذکورہ ایس ایس پی کے خلاف بھی سندھ حکومت کو شکایت درج کرائی گئی مگر کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ایس پی آصف علی: آئی جی سندھ کی جانب سے ارسال کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس پی آصف علی کا تبادلہ ہوا تو وہ اپنے زیر استعمال سرکاری گاڑی لے کر بلوچستان چلے گئے اور وہ واپس نہ کی۔ایس پی کامران راشد : اسی طرح رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایس ایس پی کامران راشد کو قومی احتساب بیورو کی ٹیم نے آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے الزام میں طلب کیا تو وہ پیش نہ ہوئے، جس پر انہیں مہلت دی گئی اور پھر عدالت نے اُن کےناقابل ضمانت وارنٹ جاری کئے۔ مذکورہ ایس ایس پی 120 دن کی رخصت لے کر بیرون ملک روانہ ہوئے اور پھر انہوں نے چھٹیوں میں چار ماہ کی توسیع کرلی۔غلام سرور ابڑو: آئی جی سندھ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ پولیس افسر غلام سرور ابڑو کی سربراہی میں حیدرآباد میں قائم فیکٹریوں پر غیر قانونی چھاپے مارے گئے، مذکورہ افسر کی سربراہی میں غیرقانونی پولیس سیٹ اپ چلایا جارہا تھا جس کے کارندوں نے جعلی چھاپے مار کر رشوت کے لاکھوں روپے وصول کیے۔ذرائع کے مطابق ڈاکٹر کلیم امام کی جانب سے بھیجی جانے والی شکایتی رپورٹ کو سندھ حکومت نے نظر انداز کیا اور منظور نظر افسران کے خلاف کوئی بھی اقدامات نہ کیے۔