یا اللہ خیر : بارشوں اور برفباری نے تباہی مچا دی ۔۔۔ اہم ترین صوبے کا پورے پاکستان سے رابطہ منقطع ۔۔۔تشویشناک اطلاعات موصول

اسلام آباد(ویب ڈیسک) لاہور سمیت ملک کے بیشتر علاقوں میں بارش اور برفباری کے باعث نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا،بلوچستان، خیبر پختونخوا گلگت بلتستان اور پنجاب کے مختلف علاقے مغرب سے داخل ہونے والے سسٹم کے باعث بارشوں اور برفباری کی لپیٹ میں، سندھ کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے بلوچستان میں

برفباری کے باعث سنو ایمر جنسی نافذ کر دی گئی جبکہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کوئٹہ سمیت شمال مغربی بلوچستان میں گزشتہ روز سے بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ کوئٹہ اور گرد و نواح میں گزشتہ روز سے اب تک ایک فٹ تک برفباری ہوچکی ہے، اس کے علاوہ چمن، زیارت، مستونگ، دشت اور کولپور میں بھی شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے، زیارت میں ہفتے کی دوپہر سے اتوار کی صبح تک 2 فٹ سے زائد برفباری ہوچکی ہے۔ اس کے علاوہ گوادر، پنجگور اور دیگر علاقوں میں موسلا دھار بارش سے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔وسری جانب ریسکیو ذرائع کے مطابق ڑوب میں برفباری کے باعث مکان کی چھت گرنے سے 6 افراد جاں بحق ہوگئے جن میں 3 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔ برفباری کے باعث کوئٹہ کراچی شاہراہ مستونگ کے مقام پر بند ہے جس کی وجہ سے سیکڑوں مسافر پھنس گئے ہیں، کوژک ٹاپ پر شدید برفباری کی وجہ سے کوئٹہ چمن شاہراہ اور کان مہترزئی کے مقام پر کوئٹہ اسلام آباد شاہراہ بند ہوگئی۔پشاور، ہزارہ و مالاکنڈ ڈویژنز، کوہاٹ، اورکزئی اور چترال سمیت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں بھی بارش اور برف باری کا سلسلہ جاری ہے۔ شانگلہ کے میدانی علاقوں میں بارش پہاڑوں پربرفباری جاری ہے۔ دیرلوئر کے بالائی علاقے شاہی، بن شاہی، لڑم، کلپانی، لواری ٹنل، کمراٹ، عشیرئی درہ میں گزشتہ روز سے اب تک تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ بارش اور برفباری کے باعث لوگ اپنے گھروں تک محصور ہوکر رہ گئے ہیں

جب کہ بجلی اور گیس کی بندش نے ان کی مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے۔گلگت بلتستان میں بھی گزشتہ روز سے شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ جس کی وجہ سے بلتستان ڈویژن کے تمام بالائی علاقوں کا زمینی رابطہ بدستور منقطع ہے اور لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں جب کہ شدید سردی اور برف باری سے درخت بھی پھٹنے لگے، محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شدید برفباری کا یہ سلسلہ 3 روز تک جاری رہنے کا امکان ہے۔بارش اور برفباری کا باعث بننے والا سسٹم بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے علاوہ سندھ پر بھی اثر انداز ہے تاہم اس کی شدت انتہائی کم ہے۔ کراچی سمیت مختلف علاقوں میں موسم ابر آلود ہے اور بیشتر علاقوں میں یخ بستہ ہواں کا راج ہے۔محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ کراچی میں اتوار کی رات تک ہلکی بارش ہوسکتی ہے تاہم سردی کی شدت میں اصل اضافہ 13 جنوری کے بعد ہوگا، 15 اور 17 جنوری کے درمیان راتوں کو درجہ حرارت 5 سے 7 ڈگری تک گر سکتا ہے۔ اس سے قبل 2014 میں جنوری کا مہینہ اس قدر سرد ہوا تھا، اس وقت بھی کم سے کم درجہ حرارت 7 ڈگری تک ریکارڈ کیا گیا تھا۔ پنجگور میں موسلادار بارش نشیبی علاقے زیر آب آنے سے ندی نالوں میں طغیانی کچے راستے متاثر متعدد گاؤں کا شہر سے رابطہ منقطع بجلی کا نظام درہم برہم ڈپٹی کمشنر شفقت انور نے سیلابی صورت حال سے نمٹنے کیلئے ایمرجنسی سیل قائم کردیا متعدد کچی دیواریں منہدم تفصیلات کے مطابق پنجگور میں ہفتہ اور اتوار کے درمیانی شب شروع ہونے والی

بارش سے نشیبی علاقے زیر آب انے سے ندی نالوں میں طغیانی کی وجہ سے کچے راستے بہہ گئے جس کی وجہ متعدد گاؤں کا زمینی رابطہ شہر سے منقطع ہوگیا اور کچے مکانات کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے پنجگور میں سیلاب کے پیش نظر ڈپٹی کمشنر آفس میں ایمرجنسی سیل قائم کردیا گیا ہیبلوچستان کے بارش اور برف باری سے متاثرہ اضلاع میں پاک فوج اورایف سی نے ریسکیو آپریشن کا آغاز کردیا صوبے کے مختلف اضلاع میں عارضی پناہ گاہیں قائم کرتے ہوئے قومی شاہراہوں پر پھنسے ہوئے مسافروں کو خوراک،پانی اورچائے فراہم کی گئی۔ اتوار کو پاک فوج اور ایف سی بلوچستان نے بلوچستان کے ضلع کوئٹہ،قلات،مکران اور ژوب ڈویژنز میں ریلیف آپریشن کا آغاز کردیا پاک فوج اورایف سی نے قومی شاہراہوں پر پھنسے ہوئے مسافروں کو نکالنے کے ساتھ ساتھ انہیں خوراک،پانی،چائے اورگرم کپڑے فراہم کئے جبکہ مختلف مقامات پر عارضی پناہ گاہیں بھی قائم کی گئی ہیں جہاں پر مسافروں کو ٹھہرایاگیا ریلیف آپریشن کے دوران ٹریفک کی روانی کو برقراررکھنے کیلئے بھی اقدامات کئے گئے۔وزیر اعلی بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ صوبے کے کئی اضلاع میں غیر متوقع طور زیادہ برف باری اور بارشیں ہوئی ہیں سڑکیں کھلوانے اور عوام کو ہرممکن ریلیف پہنچا نے کیلئے صوبائی حکومت مکمل متحرک ہے، نوکنڈی کے علاقے میں سیلابی ریلے میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے پاک فوج سے مدد حاصل کر لی ہے، اسحاق آباد دھماکے میں اندورنی اور بیرونی عناصر ملوث ہیں، کچھ گروپس کے آپس کے تنازعات ہیں جن کی وجہ سے ماضی میں بھی کوئٹہ میں ایسے واقعات ہوئے

ہم ان عناصرکے خلاف کریک ڈاؤن کریں گے پاک ایران کے سرحدی شہر ماشکیل کے گرد و نواح اور دیہاتی علاقوں میں کل رات سے شروع ہونے والی تیز بارشوں نے تبائی مچا دی ہے جس میں ماشکیل میں لوگوں کے کچے مقانات اور دوکانیں گر گئے ہیں جس سے لوگوں کو لاکھوں روپے کا نقصان ہوا ہے تیز بارشوں سے ماشکیل بازار اور ارد و گرد کے گلی تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں لوگوں کا پیدل چلنا مشکل ہو گیا ہے بازار میں جگہ جگہ پانی جمع ہونے کی باعث سے لوگوں کو آمد و رفت اور خرید و فروخت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ادھرآزاد کشمیر کی وادی لیپہ میں لمنیاں روڈ پر برفانی تودہ گرنے سے 10گھنٹوں تک شدید سردی میں پھنسے 60 سے زائد مسافروں کو پاک فوج نے ریسکیو کر لیا ہے،جبکہ بلوچستان، کشمیر، خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش اور پہاڑوں پر برف باری کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔آزاد کشمیر کی وادی لیپہ میں برفانی تودہ گرنے سے سڑک بلاک ہو گئی تھی اور 15 سے زائد گاڑیاں پھنس گئی تھیں جن میں 60 سے زائد افراد موجود تھے، تاہم پاک فوج نے امدادی کارروائی انجام دے کر ان تمام پھنسے ہوئے افراد کو نکال لیا ہے۔ملک میں موسم کی صورتحال کے باعث پی آئی اے کی اسلام آباد اور لاہور سے کوئٹہ، گلگت اور اسکردو جا نیوالی دس پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں۔ترجمان پی آئی اے عبد اللہ خان کے مطابق شدید برف باری کی وجہ سے اسلام آباد اور لاہور سے کوئٹہ اورکوئٹہ سے اسلام آباد کی پروازیں جبکہ اسلام آباد سے گلگت اور اسکردو کی دوطرفہ پروازیں بھی ناموزوں موسم اور برفباری کی وجہ سے منسوخ کردی گئیں ہیں۔کراچی سے کوئٹہ کی پروازں پہلے ہی سے منسوخ کردی گئی ہیں۔