بلاول بھٹو کا بڑا ’یارکر‘۔۔۔!!! حکومت کی بڑی وکٹ گرنے کا خدشہ پیدا ہوگیا

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت سے سخت مایوس ہیں،معاہدے پر پیش رفت اذیت ناک حد تک سست ہے۔

نجی نیوز چینل جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھاکہ حکومت نہیں گرائیں گے لیکن اپنے عوام کی نظروں میں خود بھی نہیں گریں گے، اذیت کب تک برداشت کرنی ہے فیصلہ کرنے کے لیے جائزہ لے رہے ہیں۔بلاول کے بیان کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو نے سندھ حکومت میں شامل ہونے کی پیشکش کر کے عجیب مذاق کیا ہے۔

خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ ایم کیو ایم حکومتیں گرانے کے لیے نہیں بنی، بلاول کو ہمیں وزارتوں کی پیشکش کرنے کی ضرورت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ بلاول کی نیت کے بارے میں اب کوئی غلط فہمی نہیں کہ ان کا منصوبہ کیا ہے۔

خیال رہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے متحدہ قومی موومنٹ کو وفاق سے اتحاد ختم کر کے حکومت گرانے پر سندھ میں وزارتیں دینے کی پیشکش کی تھی۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ اس وقت وفاقی حکومت کی عوام دشمن پالیسی چل رہی ہے، ہمیں وفاق سے اپنا حصہ چھیننا پڑے گا۔

انھوں نے وسیم اختر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہمارے پرانے ساتھیوں کو کہنا چاہتا ہوں کہ جو ظلم کراچی کے ساتھ ہو رہا ہے اسے روکا جاسکتا ہے، وفاقی حکومت سے اتحاد کو ختم کریں اور عمران کی حکومت کو گرا دیں۔

چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ ’میں ان سے کہنا چاہتا ہوں کہ جتنی وزارتیں وفاق میں ایم کیو ایم کے پاس ہیں ہم انھیں سندھ میں دینے کے لیے تیار ہیں بس شرط یہ ہے کہ عمران کو گھر بھیج دیں، اس صوبے کو اس کا حصہ دلوا دیں، ہم ساتھ مل کر اس صوبے کو ترقی دلوا سکتے ہیں۔’

انھوں نے کہا کہ ‘امید ہے آج نہیں تو کل ان کو یہ فیصلہ لینا پڑے گا، پاکستان کو بچانا پڑے گا اور نیا پاکستان ختم کرنا پڑے گا۔’

انھوں نے کہا کہ ‘کراچی کے عوام کو معلوم ہے کہ عمران خان نے انھیں دھوکہ دیا ہے، ان کا ہر وعدہ جھوٹا نکلا ہے اور 2020 میں جب انتخابات ہوں گے تو یہ عوام عمران خان کے حوالے سے یو ٹرن ہی لیں گے۔’