تفصیلات حاصل۔۔۔!!! بھارت کی ایٹمی تنصیبات کہاں کہاں واقعہ ہیں؟ پاکستان کو پتہ چل گیا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) جوہری تنصیبات اور سہولیات پر حملے روکنے کے معاہدے پر پاکستان اور بھارت کے مابین فہرست جاری کر د ی گئی۔

اس حوالے سے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ معاہدہ 31 دسمبر 1988 کو ہوا تھا جس پر عمل کرتے ہوئے آج دفتر خارجہ نے پاکستانی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست بھارتی ہائی کمیشن کے نمائندوں کے حوالے کر دی۔

دوسری جانب بھارتی دفتر خارجہ کی جانب سے دہلی کے وقت کے مطابق آج 11 بجے بھارتی جوہری تنصیبات اور سہولیات کی فہرست پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے کر دی گئی۔

واضح رہے کہ ہر سال دونوں ممالک یکم جنوری کو ایک دوسرے کو جوہری تنصیبات کی فہرست مہیا کرتے ہیں اور یہ سلسلہ 1992 سے جاری ہے۔اس فہرست کے ساتھ ساتھ پاکستان نے ایک اور فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستان کی مختلف جیلوں میں قید 282 قیدیوں کی فہرست جاری کی گئی ہے جس میں سے 55 شہری اور 227 ماہی گیرہیں۔

تبادلے کا یہ قدم 2008 میں کئے جانے والے قونصلر رسائی معاہدے کے تحت ہوتا آرہا ہے۔ اس معاہدے کے تحت دونوں ممالک سال میں 2 مرتبہ ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جیلوں میں موجود ایک دوسرے کے قیدیوں کی فہرست فراہم کرتے ہیں ۔سال میں یہ تبادلہ یکم جنوری اور یکم جولائی کو ہوتا ہے۔

دوسری جانب بھارتی ہائی کمیشن نے بھی پاکستانی قیدیوں کی فہرست جاری کی ہے۔خیال رہے کہ 2019 کے آغار میں پاکستانی جیلوں میں بھارتی قیدیوں کی تعداد 537 تھی جبکہ 2018 میں457 بھارتی قیدیوں کی لسٹ جاری کی گئی تھی۔

یہاں یہ واضح رہے کہ ان میں سے وہ قیدی جو کہ سمندری سرحد سے ماہی گیری کرتے ہوئے آتی ہے، انہیں حکومت پاکستان جذبہ خیر سگالی کی بنیاد پر رہا کر دیتی ہے۔