بریکنگ نیوز: کپتان کا ایک اور وعدہ پورا ، شاندار ملازمتوں کی بھر مار ۔۔۔۔۔۔پاکستان میں ایک اور نئی پولیس فورس بنانے کا فیصلہ کر لیا گیا

پشاور(ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا میں نئی ٹورسٹ پولیس فورس بنانے کےلئے 30 کروڑ روپے سے زائد فنڈ مختص کر دیا گیا، نئی ٹورسٹ پولیس فورس سیاحوں کو کسی بھی ناخوش گوار واقعہ میں مدد اور رہنمائی فراہم کرے گی، ٹورسٹ فورس کو پہلے مرحلے میں تین سیاحتی مقامات پر تعینات کیا جائے گا۔

خیبر پختونخوا میں سیاحتی مقامات کیلئے ٹورسٹ پولیس فورس کیلئے تیس کروڑ روپے سے ذائد فنڈ مختص کیا گیا، ٹورسٹ فورس سیاحوں سمیت انتظامیہ اور مقامی تھانے سمیت ہر قسم کے مسائل کے حل میں مدد فراہم کرے گی۔ وزیر سیاحت عاطف خان کے مطابق ٹورسٹ پولیس فورس کی بھرتی کا عمل جلد شروع کیا جائے گا جبکہ مختص فنڈ میں فورس کیلئے گاڑیوں سمیت یونیفارم اور دیگرسہولیات فراہم کی جائیں گی۔پشاور کے عوام نے حکومت کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے نہ صرف سیاح خود کو محفوظ تصور کریں گے بلکہ صوبے میں سیاحت کو بھی فروغ ملے گا۔ٹورازم پولیس کی تربیت کے لئے تھائی لینڈ حکومت کی خدمات حاصل کی جائیں گی، محکمہ سیاحت کے مطابق ٹورزم فورس پہلے مرحلے میں صوبے کے تین اضلاع سوات، چترال اور ہزارہ ڈویژن کے سیاحتی مقامات پر تعینات کی جائے گی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزارتوں کی ایک سالہ کارگردگی رپورٹ دھیرے دھیرے وزیراعظم کو پیش ہونا شروع ہو گئی ہیں،وزارت انسانی حقوق کی رپورٹ مایوس کن،حکومت کے تمام تر دعووں کو اکلوتی وزارت نے اپنے سر کا صدقہ دیکر قربان کر دیا۔ گزشتہ سال کے دوران مختلف وزارتوں کو جائزہ لیا جائے تو وزارت انسانی حقوق ایک ایسی وزارت طور پر سامنے آتی ہے جسے بہتر طور پیش کرکے نہ صرف وزیراعظم سے داد وصول کی جاسکتی تھی بلکہ بین الاقوامی سطح پرپاکستان کا نام روشن کیا جاسکتا ہے۔ ایسے ماحول میں وزیر انسانی حقوق نے گزشتہ سال کے دوران نہ تو کوئی خاص کارکردگی دکھائی،اور نہ اس کے ذمہ داروں نے اس کی کسی تشہیر کی ضرورت محسوس کی، اس کے برعکس وزیر انسانی حقوق نے اپنے عہدے کے استعمال کرتے ہوئے اپنے تھنک ٹینک کو مضبوط کرنے پر زور دیا۔ وزارت انسانی حقوق کی جانب سے وزیراعظم کو پیش کردہ سالانہ رپورٹ کا جائزہ لیا جائے تو سال 2019ء کے دوران اس وزارت میں کسی بڑے منصوبے کا ذکرنہیں ملتا۔ جبکہ اس سال کے دوران ملک بھر میں زینب کیس کے علاوہ بہت سے دل خراش واقعات رونما ہوئے مگر وزارت انسانی حقوق نے معمول کی کاروائی کے علاوہ کو ئی پیش رفت نہیں کی۔ وزارت انسانی حقوق کی جانب سے حاصل ہونے والی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے وزارت انسانی حقوق کی جانب سے تیار کردہ ’زینب الرٹ، رسپانس اور ریکوری بل 2019ء تاحال قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں زیر بحث ہے۔ اس کے علاوہ اس رپورٹ میں وفاقی دارالحکومت کے خصوصی افراد کے حقوق کے تحفظ کا بل بھی قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق سے منظور نہیں ہوسکا۔