رانا ثناءاللہ کیخلاف منشیات کیس اسی چیز کا نتیجہ ہے کیونکہ۔۔۔۔ سابق آئی جی پولیس نے افسوسناک سچائی سے پردہ اٹھا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) سابق آئی جی ذوالفقار چیمہ نے کہا ہے کہ پہلے دن سے ہی پتہ تھا کہ راناثناءاللہ کیخلاف کیس جھوٹا ہے ، جھوٹا کیس کرنا بری گورننس کا نشان ہوتا ہے اوریہ حکومت پرایک بہت بڑا دھبہ لگا ہے،افسوناک بات یہ ہے کہ اس کیس کی منظوری وزیراعظم کی سطح پر ہی

ہوئی ہوگی ۔ دنیانیوز کے پروگرام ”دنیا کامران خان کے ساتھ“میں گفتگوکرتے ہوئے سابق آئی جی پولیس ذوالفقار چیمہ نے کہا کہ اگر رانا ثنا ءاللہ کے خلاف کوئی شہادت ہوتی تو ضرورپیش کی جاتی اورضمانت نہ ہونے کیلئے پورا زورلگایا جاتا ۔انہوں نے کہا کہ جھوٹا کیس کرنا بری گورننس کا نشان ہوتاہے اوریہ حکومت پرایک بہت بڑا دھبہ لگا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سیاسی رہنماﺅں کوسیاسی مقاصد کیلئے اللہ تعالیٰ کا نام استعمال نہیں کرنا چاہئے جس طرح حکومت نے دعویٰ کیا، اگروہ دعویٰ درست ہوتا تو مووی بنائی جاتی، یہ ایسے ہی ہے جیسے پہلی حکومتوں کی جانب سے ماضی میں بھی ہوتا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے ہی پتہ تھا کہ یہ جھوٹا کیس ہے ،افسوسناک بات یہ ہے کہ اس کیس کی منظوری وزیراعظم کی سطح پر ہی ہوئی ہوگی ۔خیال رہے کہ لاہور ہائی کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا. صوبائی دارالحکومت کی عدالت عالیہ میں جسٹس چوہدری مشتاق احمد نے رانا ثنااللہ کی منشایت برآمدگی کیس میں ضمانت کی درخواست محفوظ کیا گیا فیصلہ سنایا تھا‘عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے منشیات برآمدگی کیس میں 10، 10 لاکھ روپے کے 2 مچلکے کے عوض رانا ثنااللہ کی کی درخواست ضمانت منظور کرلی تھی. واضح رہے کہ گزشتہ روز رانا ثنا اللہ کے وکلا اور انسداد منشیات فورس (اے این ایف) کے پراسیکیوٹر نے مذکورہ درخواست پر پر دلائل دیے تھے، جس کے بعد فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا.پاکستان مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر اور رکن قومی اسمبلی رانا ثنا اللہ کو انسداد منشیات فورس نے یکم جولائی 2019 کو گرفتار کیا تھا‘اے این ایف نے مسلم لیگ (ن) پنجاب کے صدر رانا ثنا اللہ کو پنجاب کے علاقے سیکھکی کے نزدیک اسلام آباد لاہور موٹروے سے گرفتار کیا تھا.