ایک بار پھر میرے پروگرام کا یہ حصہ سنسر کردیا گیا۔۔۔ سینئر صحافی حامد میر نے سوشل میڈیا پر کلپ چلا دیا

اسلام آباد(ویب ڈیسک)سینئر صحافی حامد میر کاکہنا ہے کہ ایک بار پھر ان کے پروگرام کاکچھ حصہ سینسر کردیا گیا۔اس بار انہوں نے سینسر کئے جانے والاکلپ ٹویٹر پر اپ لوڈ بھی کردیاہے۔ کلپ پوسٹ کرتے ہوئے حامد میر نے سوال اٹھایا کہ آخر اس میں کیا غلط بات ہے؟ اس حصہ میں عارف علوی

کہہ رہے ہیں کہ مشرف کے ٹرائل کا مطلب آرمی کا ٹرائل نہیں ہے۔حامد میر کے مطابق یہ سینسر شپ ان لوگوں کیلئے ٹھیک نہیں ہے جو قوم سے سچ چھپا کر ایک سزایافتہ آمر کو بچانا چاہتے ہیں۔ویڈیو میں حامد میرنے صدرعارف علوی کا نو جنوری دوہزار چودہ کا ایک کلپ دکھایا ہے جس میں عارف علوی کہہ رہے ہیں کہ ”نہیں نہیں کوئی تعلق ہی نہیں پاک فوج کااس بات سے۔کیسے ہوسکتا ہے۔ پرویز مشرف صاحب کے جوکام تھے وہ تو انہوں نے اپنے دور صدارت میں کئے۔جس کے اوپر ٹرائل ہو رہا ہے نا۔۔ وہ تو دوہزار سات سے ہورہا ہے نا۔۔ انیس سو ننانوے کا نہیں ہورہا۔تو یہ جو صدارتی منصب پر بیٹھ کر کیا اس میں آرمی کا کیا تعلق ہے۔ مگرپرویزمشرف صاحب آرمی کوشامل رکھنا چاہتے ہیں تاکہ آرمی ان کی پشتپناہی کرتی رہے، نہیں کرنا چاہئے آرمی کو بھی۔اور انصاف پر بھروسہ کرنا چاہئے پرویز مشرف صاحب کو بھی اوران کے ہمدردوں کو بھی ۔ میں سمجھتا ہوں کہ آرمی ان کی ہمدرد نہیں،انصاف پر بھروسہ کریں اسی انصاف پرچل کر ہی ملک کے حالات بہتر ہوسکتے ہیں۔“حامد میر کی پوسٹ پر لوگوں کی بڑی تعداد نے تبصرہ کیا ہے،ڈاکٹر ایس اعوان نے لکھا کہ ”میرصاحب,اس نے مجھے جارج اورویل کے انیمل فارم کی یاد دلادی جس میں تمام جانور برابر ہوتے ہیں اورکچھ باقیوں سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔ عمران خان آخری امید ہیں اس کے بعد خدا بہتر جانتا ہے کہ کس کی قیادت آئے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ کے پاس کوئی بیک اپ پلان ہے؟اسلام اورہم نامی ٹویٹر صارف نے لکھا

”پاک فوج کوتقسیم کرنا بیرونی قوتوں کی بہت پرانی خواہش ھے-اگرپاک فوج تقسیم وتنازعات سے بچنا چاہتی تواسے مشرف اورمشرف ازم کو چھوڑنا پڑے گا“ایس ایم گورایا نے لکھا”وہ عدالتی سزا یافتہ مجرم حکومت اسکی گرفتاری کہ لیئے ریڈ وارنٹ جاری کرے اگر حکومت ایسا نہیں کر رہی تو یہ آئین وقانون کیخلاف ورزی ھے اعلی عدالتوں کو نوٹس لینا چاہیئے تاکہ مجرم کو جیل بھیجا جا سکے اگر اپیل کرے تو اپیل کہ فیصلہ تک اسے جیل میں رکھا جاے غدار کہ لیئے علیحدہ قانون کیوں