بریکنگ نیوز: آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور وزیراعظم عمران خان کی ملاقات ۔۔۔۔ خصوصی عدالت کے فیصلے کے مد مقابل ایک اور بڑا فیصلہ ہو گیا

اسلام آباد ( مانیٹرنگ ڈیسک) میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ فیصلے میں جو الفاظ استعمال کیے گئے وہ مذہب، انسانی ، تہذیببی اور قانونی تقاضوں پر پورا نہیں اُترتے، افواج پاکستان ایک منظم ادارہ ہے، ہم ملکی سلامتی کو قائم کرنے کے لیے اپنی جانیں قربان کرتے ہیں، ہم نے 20 سالوں میں یہ کام کر کے دکھایا ہے، جو کام کوئی بھی فوج نہ کر سکی وہ افواج پاکستان نے کیا، ہم نے دشمنوں، سہلوت کاروں اور اعلیٰ کاروں کو نشانِ عبرت بنایا، جہاں دشمنوں نے ہمیں داخلی طور پر کمزور کیا گیا اب بیرونی سطح پر بھی ہمیں کمزور کرنے کی کوشش کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق میڈیا بریفنگ میں میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ان حالات میں چند لوگو اندرونی اور بیرونی حملوں سے اشتعال دلاتے ہوئے ہمیں آپس میں لڑانا چاہتے ہیں، لیکن انشاء اللہ ایسا نہیں ہوگا ، ہم نے اگر اندرونی دہشتگردی کا مقابلہ کیا تو پھر ہر قسم کے ڈیزائن کو ناکام بنا کر رکھیں گے، ہم اپنے بڑھتے ہوئے قدموں کو پیچھے نہیں ہٹائیں گے، افواج پاکستان ایک ادارہ نہیں بلکہ ایک خاندان ہیں ، ہم عوام کی سپورٹ سے مضبوط ہیں، ہم ملک کا دفاع بھی جانتے ہیں اور ادرے کی عزت کی ساکھ کو بچانا بھی ،

ہم ملک کی عزت اور اپنے ادارے کی عزت و وقار کا بھرپور دفاع کریں گے، انہوں نے کہا کہ اب سے کچھ دیر قبل آرمی چیف اور وزیر اعظم کی تفصیلی بات چیت ہوئی، آج کے فیصلے نے محب وطن پاکستانیوں کے جذبات کو مجروح کیا ہے، فوج اور حکومت پچھلے چند سالوں سے مل کر ملک کو اس جانب لیجانا چاہتے ہیں جہاں ہر دشمن ناکام ہو، میری عوام سے درخواست ہے کہ وہ افواج پاکستان پر اعتماد رکھیں ، ہم ملک میں انتشار کو نہیں پھیلنے نہیں دیں گے، اپنے ادارے کی عزت کو ملک کی عزت کے ساتھ قائم رکھیں گے، دشمنوں کو بھر جواب دیں گے، ہم نے جو فیصلے کیے ہیں وہ حکومت آپ کو کچھ عرصے بعد بتا دے گی۔