اصل کہانی تو اب سامنے آئی ۔۔۔ رات کے اڑھائی بجے کا وقت ، کراچی کے ایک مشہور ہوٹل میں دعا منگی کے نام سے بُک کروائے گئے کمرے میں کیا کچھ ہوا؟ تہلکہ خیز حقائق سامنے آگئے

کراچی (ویب ڈیسک) دعا منگی کے نام پر ہوٹل میں ایک کمرا بک کرنیکا انکشاف ہوا ہے۔ کراچی کے علاقے ڈیفنس سے اغوا کی گئی لڑکی دعا منگی اغوا کیس میں اس کی با زیابی کے بعد ایک نیا پہلو سامنے آیا ہے۔ بازیابی کی رات کو کراچی ہی کے علاقے صدر میں مبینہ طور پر

دعا منگی کے نام سے ہوٹل کا روم بک کرانے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ارشاد نامی شخص ٹیکسی میں ڈھائی بجے شب ہوٹل پر آیا اور کمرہ بک کرنے کا کہا جس پر ہوٹل منیجر نے لڑکی کا شناختی کارڈ مانگا۔ ہوٹل منیجر کے لڑکی کا شناختی کارڈ مانگنے پر ارشاد نامی اس شخص نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ اس کے پاس لڑکی کا شناختی کارڈ موجود نہیں صرف اے ٹی ایم کارڈ ہے۔ عینی شاہدکے مطابق اے ٹی ایم کارڈ پر دعا منگی لکھا ہوا تھا، جب منیجر نے ٹیکسی ڈرائیور کو لڑکی کے اغوا سے متعلق بتایا تو وہ فوری طور پر وہاں سے واپس چلا گیا۔ واضح رہے کہ دعا منگی نے گھر واپسی کے بعد پولیس ٹیم کو ابتدائی بیان ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ حارث کے ساتھ چائے پی کر ٹہلنے نکلی تھی کہ اچانک دو افراد نے مجھے پکڑ کر گاڑی میں ڈال کر اغوا کرلیا۔ دعا منگی کا کہنا تھا کہ شور ہونے لگا پھر اچانک گولی چلنے کی آواز آئی، ملزمان نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور تین بار دوسری گاڑیوں میں منتقل کیا گیا۔ تفتیشی ٹیم کو دئیے گئے بیان میں دعا منگی کا کہنا تھا کہ میں نے کسی شخص کا چہرہ نہیں دیکھا بس کھانا کھاتے وقت میری آنکھوں سے پٹی ہٹادی جاتی تھی۔ یاد رہے کہ دعا منگی کو 30 نومبر کو کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان بخاری سے نامعلوم افراد نے اغوا کیا تھا جب کہ اس کے ساتھ موجود دوست حارث کو گولی مار کر زخمی کر دیا تھا، چند روز قبل دعا منگی اچانک گھر پہنچ گئی تھی۔