بریکنگ نیوز۔۔۔!!! نیازی خاندان سخت پریشان ، لیگی خاتون رہنماء حنا پرویز بٹ نے عمران خان کے بھانجے حسان نیازی پر سنگین ترین الزام عائد کر دیا، پاکستانی سیاست میں نئی بحث کا آغاز

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) آج لاہور میں پی آئی سی کے باہر بدترین واقعہ پیش آیا جب وکلاء کے مسلحہ جتھے نے پنجاب کے سب سے بڑے کارڈیالوجی اسپتال پر حملہ کیا، توڑ پھوڑ کی، عملے کو یرغمال بنایا، کئی مریض جان کی بازی ہار گئے۔

حیرت انگیرز صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جس وقت صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان اپنے تئیں وکلاء برادری سے مذاکرات کرنے کے لیے میدان میں اُترے اور وکلاء نے انہیں دیکھتے ہی تشدد کا نشانہ بنا ڈالا، اس حوالے سے فیاض الحسن چوہان کا کہنا تھا کہ انہیں اغوا کرنے کی کوشش کی گئی، انکے پیچھے فائر بھی کیا گیا،جن وکلاء نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا ان میں مریم نواز اور شہباز شریف کے وکلاء بھی شامل تھے۔ فیاض الحسن چوہان کے بیان پر لیگی خاتون رہنماء حنا پرویز بٹ بھی میدان میں آگئیں اور انہوں نے فیاض الحسن چوہان کو ناقابلِ یقین جواب دے ڈالا۔

تفصیلات کے مطابق فیاض الحسن چوہان کی پریس کانفرنس پر رد عمل دیتے ہوئے حناء پرویز بٹ نے پہلے تو سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیر اعظم عمران خان کزن اور سینئر صحافی حفیظ اللہ خان نیازی کے بیٹے ” بیرسٹر حسان نیاز” کی تصویر اپ لوڈ کی اور ساتھ کیپش میں لکھا کہ ’’فیاض الحسن چوہان ن لیگ پر الزام لگانے سے پہلے کم از کم یہ دیکھ لیتے کہ پی آئی سی پر حملہ کرنے والوں میں عمران خان کا بھانجہ حسن نیازی بھی تھا۔۔ کوئی شرم کوئی حیا؟؟؟؟‘‘۔

یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ حسان نیازی بھی اس پروٹسٹ حسان نیازی بھی شریک تھے لیکن انہوں نے کسی توڑ پھوڑ میں حصہ نہیں لیا، جب وکلاء برادری کی جانب سے پر تشدد کارروائیوں کا آغاز کیا گیا تو وہ موقع سے چلے گئے تھے، فیاض الحسن چوہان پر تشدد کے بعد انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’’ابھی ابھی فیاض الحسن چوہان کی پوری ویڈیو دیکھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کافی بہادر ہیں، لیکن شر پسند وکلاء نے ان سے مار پیٹ کی، اس چیز کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے، فیاض اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر پولیس کو پتھر پھینکنے سے روک رہےتھے ‘‘۔

وکلاء برادری کی جانب سے ہونے والی ہلاکتوں کی میڈیا رپورٹس کو دیکھنے کے بعد حسان خان نیازی کی جانب سے پیغام چھوڑا گیا کہ ’’اس کلپ کو دیکھنے کے بعد مجھے اپنے آپ پر شرم آتی ہے، یہ قتل ہیں، میں احتجاج میں صرف اس لیے شریک ہوا تھا کہ متعلقہ ڈاکٹروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے، میں صرف پرامن احتجاج کے لئے کھڑا تھا،یہ افسوسناک دن ہے اور میں اس احتجاج کی حمایت کرنے پر اپنے ہی نفس کی مذمت کرتا ہوں‘‘۔