شرم ہے تو ڈوب مرو۔۔۔!!! وکلاء پی آئی سی میں وکلاء حملے کے وقت تصویر میں نظر آنے والی نرس کے ساتھ کیا سلوک کرتے رہے؟ شرمناک ویڈیو وائرل ہوتے ہی پورا پاکستان غصے سے آگ بگولہ

لاہور ( نیوز ڈیسک ) وکلاء کے تشدد اور شرمناک سلوک کا نشانہ بننے والی نرس زاروقطار رو پڑی ۔

تفصیلات کے مطابق وکلاء کے پی آئی سی پر حملہ کر کے ہسپتال کو توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا اور ساتھ ہی صوبائی وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان سمیت ڈاکٹرو ں سمیت نرسوں پر تشدد بھی کیا ۔ تاہم سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ تشدد کا نشانہ بننے والی نرس روتے ہوئے ہسپتال سے باہر نکل رہی ہے ۔غور سے دیکھا جائے تو نرس نے تکلیف کے باعث اپنے بازوں کو پکڑ رکھا ہے۔

جب کہ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے وکلاء کے پی آئی سی پر حملے کا نوٹس لے لیا ہے۔وزیراعظم نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سے ٹیلی فونک رابطہ کیا ہے اور فوری طور پر لاہور پہنچنے کی ہدایت کی ہے ۔
وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدارنے کہا ہے کہ میں معاملے کو نمٹانے کیلئے لاہور جارہا ہوں۔

عثمان بزدار نے کہا کہ وکلاء اور ڈاکٹروں کے درمیاں صلحہ ہو چکی تھی۔یاد رہے کچھ دیر قبل وکلاء زبرستی پی آئی سے میں داخل ہو گئے۔ پنجاب اسٹیٹوٹ آف کارڈیالوجی میں وکلاء کی جانب سے ہنگامہ آرائی جاری ہے۔کئی گاڑیوں کے شیشے توڑ دئیے گئے ہیں جب کہ وکلاء نے پولیس کی ایک گاڑی کو بھی آگ لگا دی ہے۔ صدر وائی ڈی اے ڈاکٹر عرفان کا کہنا ہے کہ پی آئی سی میں اب تک 6 مریض دم توڑ گئے ہیں۔
جب کہ میڈیا رپورٹ کے مطابق پی آئی سی میں 12 مریض دم توڑ گئے ہیں۔ کئی مریضوں کی حالت بھی تشویشناک بتائی جا رہی ہے ۔ جن میں گلشن بی بی نامی ایک خاتون بھی شامل ہے۔ وکلاء نے صوبائی وزیر فیاض الحسن چوہان پرکو تشدد کا نشانہ بنایا۔لیکن افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس تمام صورتحال میں وکلاء جشن مناتے رہے۔وکلاء اسپتال پر حملہ کرنے کے بعد جشن مناتے رہے۔