20 سے 25 اراکین اسمبلی کا عمران خان کا ساتھ چھوڑنے کا فیصلہ۔۔۔!!! پی ٹی آئی کی اقتدار سے چھٹی کا وقت، پاکستان پر اب کونسی جماعت راج کرنے جا رہی ہے؟ خفیہ ملاقاتوں میں فیصلہ ہوگیا

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئیر رہنما اس وقت لندن میں موجود ہیں،جب کہ خواجہ آصف،احسن اقبال اور مریم اورنگزیب سمیت کئی اہم رہنما شامل ہیں،چونکہ شریف برادران پہلے ہی لندن میں موجود ہیں۔ایسے میں ایک اور لندن پلان کی بھی گونج سنائی دینے لگی ہے جب کہ یہ باتیں بھی کی جا رہی ہیں لندن میں حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے مشاورت کی جا رہی ہے۔

اسی حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئیر صحافی ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ شہباز شریف لندن میں موجود ہیں۔جہاں وہ اپنے معاملات طے کر رہے ہیں،انہوں نے اپنی شیڈو کابینہ بنا لی جس میں مریم اورنگزیب کو وزیر اطلاعات مقرر کیا گیا۔انہوں نے کہا مسلم لیگ ن اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے بھی رابطے میں ہے اور یہ لوگ اہم ترین قانون سازی کے موقع پر حکومت کے لیے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کہ خبر ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے 20 سے 25 اراکین اسمبلی ایسے ہیں جو وزیراعظم عمرا خان کا ساتھ چھوڑ سکتے ہیں. ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا ہے کہ اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے کئی اراکین اسمبلی عمران خان کے خلاف جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قوم اسمبلی میں پی ٹی آئی کے 20 سے 25ایسے رہنما ہیں جو وزیراعظم عمران خان کے حق میں نہیں جائیں گے۔

۔انہوں نے کہا کہ ان رہنماؤں میں اتحادیوں کا شمار نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف پی ٹی آئی کے رہنما ہیں،اگر عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی ہے تو کسی پی ٹی آئی رہنما کے پیٹ میں درد ہو گا،کوئی باہر چلا اجائے گا جب کہ کسی کی گاڑی کا ٹائر پنکچر ہوجائے گا۔جب کہ اسی صورتحال میں حکومت نے جہانگیر ترین کو ن لیگ کے بندے توڑنے کا ٹاسک سونپ دیاہے۔یہ دعویٰ سینئیر صحافی مبشر لقمان کی جانب سے کیا گیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ سب جانتے ہیں جہانگیر ترین اپنے کام میں بہت ماہر ہیں۔ جہانگیر ترین ملنے والے ٹاسک کو جلدمکمل کریں گے۔