مائنس کون ہو گا ؟ گونج بڑھ گئی۔۔۔۔۔پوری (ن) لیگ کس چکر میں لندن منتقل ہوئی ؟ تازہ ترین خبر

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کے سیاسی منظرنامے سے مائنس کون ہو گا‘عمران خان یا مریم نواز ؟ اتوارکو ملک میں مائنس کی گونج بڑھ گئی۔ مسلم لیگ (ن) کے جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے کہا ہے کہ اتفاق رائے سے ان ہاؤس تبدیلی لاکر دو تین ماہ کے لئے نیا وزیر اعظم لایا جائے

جواصلاحات کرے‘نیا وزیراعظم تمام جماعتوں کی مشاورت سے نئے عام انتخابات کا اعلان کرے، پی ٹی آئی کے تین امید واروں نے شیروانیاں تیار کرالی ہیں، ن لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ مریم نواز کی بجائے عمران خان کا نام ای سی ایل میں ہونا چاہئے، جے یو آئی (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمٰن کہتے ہیں کہ حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے والی ہے‘ ہم نے ان کی گردن سے تکبر کا سریا نکال دیا ہے۔ امیرجماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کے مطابق ان ہاؤس تبدیلی جمہوریت کا حصہ ہے‘ مڈٹرم الیکشن میں کوئی مضائقہ نہیں‘ تحریک انصاف کے رہنماءجہانگیر خان ترین کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی میں مائنس عمران خان کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا‘ عمران خان نہیں اب مریم نواز مائنس ہونے جارہی ہے۔چوہدری برادران سے ملاقات ہوئی ہے‘ ان کو حکومت کے ساتھ کوئی تحفظات نہیں اور نہ ہی کوئی مائنس ون کی بات ہوئی ہےجبکہ معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس نے کہا ہے کہ مولانا کا اقتدار کا نشہ اترچکا۔تفصیلات کے مطابق اتوار کو جیونیوز کے پروگرام ’’نیاپاکستان ‘‘ میں میزبان شہزاداقبال کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف صحت مند ہوں گے تو پہلی فلائٹ سے ہی پاکستان آئیں گے‘عمران خان کو اپنی زبان سے نکلا ہوا ہر ایک لفظ خودکو سننا پڑ رہا ہے‘ اتفاق رائے سے ان ہاؤس تبدیلی لاکر دو تین ماہ کے لئے نیا وزیر اعظم لایا جائے جو اصلاحات کرے اور تمام جماعتوں کی مشاورت سے عام انتخابات کا اعلان کرے۔تحریک انصاف کے تین امیدوار ہیں

جنہوں نے شیروانیاں تیار کرا لی ہیں۔ پارٹی کے اندر بھی عمران خان کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے‘ ہمارا کوئی مائنس ون ایجنڈا نہیں‘ ہم صرف صاف شفاف انتخابات چاہتے ہیں ‘عمران خان مزید چھ ماہ رہ گئے تو تو پاکستان ناقابل اصلاح ہو جائے گا۔ احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کی وجہ سے خود پی ٹی آئی بھی نیچے جا رہی ہے۔ عمران خان چار سے پانچ غیر منتخب پیاروں میں گھِر ے ہوئے ہیں ‘پاکستان میں بھی پیرس جیسااحتجاج ہو سکتا ہے۔ادھر اپنے بیان میں مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سرکاری خرچ پر نیب اور پی آئی ڈی کو صرف (ن)لیگ کے خلاف سیاسی انتقام کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ مریم نوازکی بجائے عمران خان کا نام ای سی ایل میں ہونا چاہئے‘ سلیکٹڈ وزیراعظم، دو درجن ترجمان کا مسئلہ مہنگائی۔ معیشت کی بدحالی، عوام کا کاروبار اور روزگار نہیں، نالائق اور نااہل حکومت کی پریشانی 22 کروڑ عوام نہیں، عمران صاحب کو دن رات صرف نواز شریف، شہباز شریف کا خیال ستاتا رہتا ہے، مریم نواز پر آج تک ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا، مریم نواز کیوں اپنے والد کی تیماردای کرنے نہ جائیں؟ان کا مزید کہنا تھا کہ فارن فنڈنگ اور بی آر ٹی کھڈے کیس میں پوری پی ٹی آئی کا نام ای سی ایل میں شامل ہونا چاہیے جبکہ پارلیمان اور پی ٹی وی پر حملہ، مالم جبہ کیس میں عمران صاحب کا نام ای سی ایل میں ہونا چاہئے۔ دریں اثناءمولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ناجائزحکومت کوتسلیم نہیں کرتے‘

اس سے جان چھڑائیں گے، ہمارے احتجاج سے حکمرانوں کی اکڑختم ہوگئی‘ فتح کے قریب ہیں، حکمرانوں کی کشتی ڈوبنے والی ہے، ہم نے ان حکمرانوں کی گردن سے تکبرکاسریا نکال دیا ہے۔ علاوہ ازیں جہانگیر ترین نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پی ٹی آئی عمران خان کی وجہ سے ہے، مائنس عمران خان کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا لیکن مریم نواز کے مائنس ہونے کا وقت آ گیا ہے‘ چوہدری برادران سے ملاقات ہوئی‘ان کے کوئی تحفظات نہیں ہیں۔جہانگیر ترین نے کہا کہ ملک کا بیڑاغرق کرنے والے بلاول کے والد آصف زرداری اور ن لیگ ہے‘ اپوزیشن کو ان کی کرپشن کے باعث رگڑا لگ رہا ہے، جن پر کیسز ہیں وہ خود کو بچانے کے لئے باہر جا رہے ہیں‘ زرداری بھی بیماری کے باعث بیرون ملک جا سکتے ہیں‘مولانا کبھی آتے ہیں، کبھی چلے جاتے ہیں، ان کے بارے میں مجھے کچھ پتا نہیں چلتا۔اتوار کو سیالکوٹ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا کا اقتدار کا نشہ اترچکا‘فضل الرحمٰن اقتدار کے ایوانوں سے پہلی دفعہ باہر ہوئے اس لیے مچھلی کی طرح تڑپ رہے ہیں۔اگر اتنا زعم ہے تو آئیں ضمنی الیکشن میں سیاسی پنجہ آزمائی کا چیلنج قبول کریں‘شہباز شریف کی ان ہاؤس تبدیلی کی خواہش دیوانے کی بڑھکیں ہیں، لندن کی بیٹھک ایک نئی چال اور حکمت عملی ہے‘ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے والے ناکام ہوں گے۔لندن میں مافیا اپنا مال بچانے کے لیے تگ و دو کر رہا ہے‘ نواز شریف پہلے لندن اپارٹمنٹس

کی ملکیت سے انکار کرتے رہے، اب سسلین مافیا کہلانے والے گاڈ فادر وہیں پر اجلاس کر رہے ہیں‘ پاکستان میں مطلوب افراد کو قانون اور عدالتیں بلا رہی ہیں، سسلین مافیا پاکستان آنے سے انکاری ہے۔چھوٹے میاں صاحب قوم کے ساتھ کی گئی ڈکیتیوں کا جواب دیں، نواز اور شہباز شریف کا 18 سوالات پیچھا کرتے رہیں گے‘فضل الرحمٰن اقتدار کے ایوانوں سے پہلی دفعہ باہر ہوئے اس لیے مچھلی کی طرح تڑپ رہے ہیں، عمران خان اور پاکستان لازم وملزوم ہیں۔لیڈر کو بیمار کہہ کر ضمانت لینے والے اسی اپارٹمنٹ میں گٹھ جوڑ کر رہے ہیں ‘مولانا کے ہاتھوں میں اسمبلی میں دوبارہ آنے کی لکیر ختم ہو گئی ہے، مولانا صاحب اب آپ کا چورن بکنے والا نہیں ۔ مذہب کی آڑ میں سیاست کرنے والے گروہ کی اب پاکستانی سیاست میں کوئی جگہ نہیں۔مانسہرہ میں خطاب اورمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ حکمرانوں کو اپنی غلطیوں کا احساس اس وقت ہوگاجب وقت ان کے ہاتھ سے نکل چکا ہوگا، حکومت ڈلیور نہیں کرپا رہی،حالات دن بدن گھمبیر صورت اختیار کر رہے ہیں تو مڈ ٹرم الیکشن میں کوئی مضائقہ نہیں‘ ان ہاؤس تبدیلی اورقبل از وقت الیکشن بھی جمہوریت کا حصہ ہیں۔حکومتی گاڑی ایک جگہ پر کھڑی ہے اور باوجود کوشش کے چل نہیں رہی تو قبل از وقت الیکشن ہی بہتر آپشن ہے اورآئین اس کی اجازت دیتا ہے۔ تبدیلی کے نام پر حکومت مسلط کی گئی ہے ،یہ تبدیلی نہیں عوام کے ساتھ کھلا مذاق اور دھوکہ ہے۔ حکومت کو احتساب پسند ہے مگر دوسروں کا۔