اگر ہم نے یہ ایک کام کر ڈالا تو عمران حکومت دھڑام سے گرجائے گی ۔۔۔۔۔ اختر مینگل نے خطرناک ترین اعلان کر دیا

کراچی (ویب ڈیسک)جیو کے پروگرام” جرگہ “کے میزبان سلیم صافی سے گفتگو کرتے ہوئے بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ دن پورے کررہی ہے،بیساکھیاں چھینی گئیں تو گر جائے گی،اگر آئین توڑنا جرم نہیں تو دستور سے آرٹیکل 6 کو نکال دیں،جب کوئی بے ساکھیوں پر چلے گا

تو وہ کب تک چلے گاجب بے ساکھیاں چھینی جائیں گی تو دھڑام سے گر جائے گا اگر کسی کو امید دلائی گئی ہے تو آنے والی تبدیلی عوام کے لئے نہیں کسی اور کے لئے ہوگی، پارلیمنٹ ہے کہاں کیا کوئی قانون سازی ہوئی ہے اجلاس شرو ع ہوتا ہے تو ہلڑ بازی ہوجاتی ہے بس ضرورت پوری کررہے ہیں دن پورے کررہے ہیں۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل کہا کہ حکومت کا ساتھ ہم نے دیا ہے حکومت نے ہمارا ساتھ ابھی تک نہیں دیاوزیراعظم، اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر، صدر کے لئے ہم نے ان کو ووٹ دیئے ان کے پیچھے ہمارے کچھ مقاصد تھے وہ بلوچستان جس کے مسئلے حل نہیں ہو پارہے جو تجاویز ہم نے دی تھیں وہ بلوچستان کے مسائل کے حل کے لئے دی تھیں لیکن دیکھنے میں یہ آرہا ہے کے نہ یہ حکومت اور نہ ہی پچھلی حکومتیں بلوچستان کے مسائل کا حل چاہتی تھیں۔اگست2018ء سے جو ہم نے ان کے ساتھ معاہدے کئے تھے اور ایک ستمبر میں ہوا تھااس میں جتنا ہونا چاہئے تھاڈیڑھ سال کے عرصے میں وہ نہیں ہوااور مسائل کو حل کرنے کے بجائے مسائل میں اور پیچیدگیاں اوران کو خراب کرنے کے لئے فیصلے کئے جارہے ہیں جو بھی حکومت یہاں پر آئی ہے وہ کہتی ہے کہ بلوچستان کا مسئلہ حل کیسے کیا جائے اور اس کا حل بتائیں ہم نے ان کو حل بتایااب حل کرنا تو ان کے ہاتھ میں ہے ہمارے ہاتھ میں ہوتا تو بلوچستان مسائلستان نہ بنتا، بلوچستان کو مسائل سے نکالنے کے بجائے مسائل کی دلدل میں دھکیلا گیا ہے۔

بلوچستان کے مسائل میں سرفہرست گمشدہ افراد کا مسئلہ،سیاسی مسائل میں گوادر کی ڈیولپمنٹ اور وہاں پر قانون سازی تھی ، افغان مہاجرین کا مسئلہ تھااور فیڈرل سروسز میں بلوچستان کا جو کوٹہ ہے اور فارن سروسز میں جو بلوچستان کا کوٹہ ہے ایک میٹنگ وہاں پر بلائی تھی مگر میں احتجاجاً خود نہیں آیااور یہ میں نے ان کو پیغام پہنچایا بھی کے صرف میٹنگوں سے آپ ہمیں ٹرخانا چاہتے ہیں یا ہمیں بہلانا چاہتے ہیں جب تک آپ ٹھوس اقدامات نہیں کرتے کوئی نتیجہ ہمارے سامنے نہیں آتا میں کسی میٹنگ میں نہیں آؤں گا۔بلوچستان میں اپوزیشن کو ہمیشہ اچھوت کا درجہ دیا جاتا ہے یہ بات بھی ان کے گوش گزار کی کے ہم آپ کے اتحادی ہیں اور بلوچستان کی حکومت وہ آپ کی اتحادی ہے تو ہمیں مجبور نہ کیا جائے کے ہم اس حد تک پہنچیں کے ہم اگر احتجاج کی راہ اختیار کریں گے تو اس کے چھینٹے آپ کے دامن پر بھی آئیں گے وفاق میں ہم نے جو حکومت کا ساتھ دیا وہ بلوچستان کے مسائل کی وجہ سے دیا اس میں صوبے کا شاید کوئی اختیار ہی نہیں ہے مگر جو متعلقہ مسائل وفاق کے ساتھ ہیں اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے صوبے میں ہم نے ابھی تک وفاق کے لئے کوئی مسئلہ نہیں بنایا ہے وہاں ہمیں صوبائی حکومت تنگ کررہی ہے تنگ کرنے کا وطیرہ ہمیشہ حکومتوں کے پاس ہوتا ہے اپوزیشن کے پاس نہیں ہوتاہم نے صوبے میں عدم اعتماد لانے کی تیاریاں کی ہیں مگر لے کر نہیں آئے ہیں یہ تو ایک جمہوری حق ہے مرکز میں بھی اگر کوئی عدم اعتماد لاتا ہے ہاؤس چینج لاتا ہے تو آپ اسے نہیں روک سکتے اگر عدم اعتماد کی تحریک غیر جمہوری ہے تو آپ اس کو اسمبلی رولز اور آئین سے نکال دیں اگر ہم عدم اعتماد لاتے ہیں تو وفاقی حکومت کو منتخب کرنا پڑے گا کے پسندیدہ کون ہے ان کو بلوچستان عزیز ہے یا جام صاحب عزیز ہیں ان کی اپنی بلوچستان عوامی پارٹی کے وزرا استعفے دے رہے ہیں پی ٹی آئی جو اس کی اتحادی ہے وہ استعفے دے رہے ہیں ناراضگی ہی تو ہے شاید وہ ناراضگی ہی اپوزیشن کے لئے ایک عدم اعتماد کی ایک راہ ہموار کرے ہمارے لئے کرسیاں اہمیت کی حامل نہیں ہمارے لوگ ہیں۔جنہوں نے ہمیں منتخب کیا ہے ہمیں اداروں نے منتخب نہیں کیا ہے تو ہم ان لوگوں کے سامنے جوابداہ ہیں جب ہماری ماؤں بہنوں کی عزتیں محفوظ نہ ہوں تو پھر اس حکومت کا ساتھ دینے کا مقصد کیا ہے ہم ان کے دست بازو بنے ہوئے تھے کے یہ انصاف کے نام پر آئے تھے انصاف مہیا کریں گے نا انصافی کے لئے ہم نے ان کا ساتھ نہیں دیا ہے اگر اب بھی اپوزیشن کے رہنماؤں کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے ہوتے تو ہم اپوزیشن کا ساتھ دیتے حکومت کا نہ دیتے ہم حکومت کا حصہ نہیں ہیں ہم نے حکومت کو ووٹ دیا ہے۔