میں مرنے سے نہیں ڈرتا بلکہ ۔۔۔۔ ذوالفقار علی بھٹو جونیئر کا حیران کن بیان سامنے آگیا

نیو یارک (ویب ڈیسک) سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے ذوالفقار علی بھٹو نے غیرملکی میڈیا کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ میں مرنے سے خوفزدہ نہیں ہوں مگر ہر وقت شہادت کی امید کیوں کی جاتی ہے؟ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان کی موروثی سیاست

کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نہ صرف وہ خود ہر وقت یہ کہتے ہیں کہ وہ مرنے کو تیار ہیں بلکہ وہ کہتے ہیں کہ وہ اوروں کو بھی ساتھ لے کر مریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ امریکہ میں رہتے ہیں اور اسکی وجہ یہ ہے کہ وہ محفوظ رہنا چاہتے ہیں اور وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ دوسرے بھی محفوظ رہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بتایا کہ انکے نانا کو قتل کیا گیا، انکے والد، انکے چچا اور پھپھو بھی قتل ہوئے اسی لیے وہ سیاست سے دور امریکہ میں رہ رہے ہیں اپنے سیاسی آواز کو آرٹکے ذریعے بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ ویژول ارٹسٹ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں خوفزدہ نہیں ہوں لیکن میں نہیں چاہتا کہ میں اپنی زندی خطرے میں ڈال کر دوسروں کو بھی غیرمحفوظ کروں۔ انہوں نے کہا کہ میں خود کو ایٹیوسٹ نہیں سمجھتا بلکہ میں ایک سیاسی آرٹسٹ ہوں، میں فنکار ہوں جسکا آرٹ سیاسی نوعیت کا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے کہا کہ میری پرورش کے بیشتر حصے میں مجھے یہ سکھایا گیا کہ میں سندھی ہوں، میرے والد میر مرتضیٰ بھٹو نے بھی ہمیشہ مجھ سے یہی کہا تھا کہ آپ سندھی ہو اور آپ نے سندھ کی زبان سیکھنی ہے، سندھی کپڑے پہننے ہیں اور سندھی کلچر کو جاننا ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ صوفی درگاہوں سے متاثر ہیں اور اسلام اور اسلام سے میل کھانے والی دیگر ثقافتوں سے بھی متاثر ہیں اس لیے میں سندھی رلی بناتا ہوں لیکن اصل میں یہ الم ہیں جن کی خوبصورتی اور رنگ ہماری شناخت میں اضافہ کرتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مزید کہا کہ فالودہ اسلام ایک آرٹ پراجکٹ تھا جو کہ میری کوئی شناخت نہیں ہے وہ ایک لائیو پرفارمنس آرٹ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو موروثی سیاست کی ضرورت نہیں ہے، پاکستان اس سے کہیں زیادہ عظیم ہے۔