نیب ان ایکشن: مسلم لیگ ن کے ایک اور رہنما کے خلاف شکنجہ تیار۔۔۔ کس کی شامت آنے والی ہے؟ تازہ ترین خبر

لاہور(ویب ڈیسک) نیب لاہور نے کینٹ ہائوسنگ سکیم سیالکوٹ کرپشن کیس میں لیگی رہنما خواجہ آصف کی اہلیہ مسرت آصف اور بیٹے کے اثاثہ جات کی تفصیلات کے لئے مالیاتی اداروں کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق نیب ہیڈ کواٹر سے گرین سگنل ملنے پر نیب لاہور نے باقاعدہ انکوائری

کا آغاز کردیا ہے اور لیگی رہنما خواجہ آصف کی اہلیہ مسرت آصف اور بیٹے کے اثاثہ جات کی تفصیلات کے لئے مالیاتی اداروں کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا ہے جب کہ سابق میئر سیالکوٹ توحید اختر اور ان کے بھائی نوید اختر بھی شامل تفتیش ہیں۔اخباری ذرائع کے مطابق کینٹ ہائوسنگ اسکیم کے ڈویلپر زاہد مقبول اور شاہد مقبول کے اثاثہ جات بھی چیک کیے جائیں گے، ان پر کینٹ ہائوسنگ سکیم سیالکوٹ کے نام پر کروڑوں روپے وصول کرنے کا الزام ہے، متاثرین کی شکایت پر نیب نے تحقیقات شروع کیں جس کی چیئرمین نیب نے انکوائری کی منظوری دی ہے۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق چئیرمین نیب کے علم میں یہ بات لائی گئی ہے کہ رضوان نامی کوئی شخص ان کے پرائیویٹ سیکرٹری کے حیثیت سے نیب کے مختلف ملزمان اور گواہان کو فون پر مختلف ہدایات دے رہا ہے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، نہ ہی ایسی ہدایات فون پر دی جا سکتی ہیں کیونکہ چئیرمین نیب کی طرف سے پہلے ہی یہ واضح ہدایت جاری کی جا چکی ہیں کہ کسی بھی مقدمہ میں ملزمان /گواہان سے فون پر بات کی جائے گی اور نہ ہی انہیں طلب کیا جائے گا۔ زیادہ تر ٹیلی فون کالز کا تعلق ایل این جی ریفرنس سے بتایا جاتا ہے جو ریفرنس حال ہی میں نیب نے احتساب عدالت میں دائر کیا ہے۔ان جعلی ٹیلی فون کالز کا مقصد نیب کو بحیثیت ادارہ بدنام کرنے کے علاوہ چئیرمین نیب کے دفتر کو حدف تنقید بنانا مقصود ہو سکتا ہے، جس کی نیب سختی سے مذمت کرتا ہے اور ایسی کسی بھی جعلی فون کالز سے لاتعلقی کا اظہار کرنے کے علاوہ وضاحت کرتا ہے کہ رضوان نامی کوئی شخص چئیرمین نیب کاپرائیویٹ سیکرٹری نہیں ہے۔نیب کے تمام ملزمان /گواہان سے گزارش کی جاتی ہے کہ ایسی کسی فون کال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں اور ایسی کسی جعلی فون کالز کی صورت میں ترجمان نیب سے رابطہ کیا جائے ۔