بریکنگ نیوز: ٹوئیٹر کے بعد واٹس ایپ کی انتقامی کارروائی؟کشمیریوں کو غائب کر نے کا پروگرام تشکیل دے دیا گیا

سری نگر(ویب ڈیسک)کشمیری پر اصرار طور پر وٹس ایپ سے غائب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔کشمیریوں کو پروٹس ایپ گروپوں سے نکال دیا گیاہے۔تفصیلات کے مطابق کشمیریوں نے واٹس ایپ گروپس سے غائب ہونا شروع کردیا ہے اور کسی کو بھی معلوم نہیں ہے۔مقبوضہ کشمیر کے رہائشی ، جن کی خود مختاری ہندوستانی حکومت کی جانب سے کر فیو

لگاکر اگست میں منسوخ کرگئیتھی ،انھوں نے واٹس ایپ گروپوں کو پراسرار طور پر چھوڑنا شروع کر دیا ہے۔شہریوں کو باقی دنیا سے الگ کرنے کی کوشش میں ہندوستانی حکام نے مقبوضہ کشمیرمیں تمام انٹرنیٹ خدمات بند کردی ہیں۔ پچھلے چار ماہ سے انٹرنیٹ کی کوئی خدمت نہیں ہے۔واٹس ایپ کے مالک فیس بک کے ترجمان نے بتایا کہ یہ گمشدگی غیر فعال اکاو ¿نٹس کے خلاف درخواست کی پالیسی کی وجہ سے ہوئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ، “سیکیورٹی کو برقرار رکھنے اور اعداد و شمار کو برقرار رکھنے کے لئے واٹس ایپ اکاو ¿نٹس عام طور پر 120 دن کی غیر فعالیت کے بعد ختم ہوجاتے ہیں۔”جب ایسا ہوتا ہے تو وہ اکاو ¿نٹس خود بخود اپنے واٹس ایپ گروپس سے باہر ہوجاتے ہیں۔ انٹرنیٹ تک دوبارہ رسائی حاصل کرنے اور دوبارہ واٹس ایپ میں شامل ہونے پر لوگوں کو دوبارہ گروپس میں شامل کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جن صارفین کی پروفائلز کی میعاد ختم ہوگئی ہے انہیں واٹس ایپ پر دوبارہ اندراج کرنا پڑے گا اور ایپ پر دوبارہ سائن اپ کرنا پڑے گا۔صرف ہندوستان سے لگ بھگ چار کروڑافراد واٹس ایپ کا استعمال کرتے ہیں ۔بھارت میں آن لائن گفتگو پر واٹس ایپ گروپس کا غلبہ ہے اور اسمارٹ فون تک رسائی حاصل کرنے والے ہندوستانیوں کی اکثریت کھلے عام گروپوں میں شریک ہوتی ہے۔ چنانچہ جب کشمیری عوام میں غائب ہونا شروع ہوگئے تو لوگوں نے اس معاملے کا نوٹس لیا۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق خیبرپختونخواہ حکومت کا ملک کی تیسری طویل ترین موٹروے تعمیر کرنے کا فیصلہ، صوبے کے جنوبی اضلاع کیلئے صوبائی دارالحکومت پشاور سے ڈی آئی خان تک تقریباً 340 کلومیٹر طویل شاہراہ تعمیر کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت ایک طویل اور اہم اجلاس میں پشاور سے ڈی آئی خان موٹروے کی الائنمنٹ کی اُصولی منظوری دے دی گئی ۔مجوزہ الائنمنٹ تقریباً 339 کلومیٹر طویل ہے ، جو 15 انٹر چینجز اور 3ٹنلز پر مشتمل ہے ، جس کے ذریعے جنوبی اضلاع اور تحصیلوں کے آبادی والے تمام دیہات اور قصبوں سمیت ترقی سے محروم علاقوں کو رسائی دی جارہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ جنوبی اضلاع کے عوامی نمائندوں کی مشاورت سے انٹر چینجز کے پلان کو حتمی شکل دی جائے ۔یہ موٹروے جنوبی اضلاع کیلئے موجودہ حکومت کا ایک بڑا منصوبہ ہے ، جس سے جنوبی خطے کی ترقی کے راستے ہموار ہوں گے اور عوام کو تیز رفتار سفری سہولت میسر آئے گی ۔