عمران خان اور شہباز شریف مل کر قانون سازی کر لیں گے یا نہیں ؟ حسن نثار کا خصوصی تبصرہ سامنے آ گیا

کراچی(ویب ڈیسک)میزبان نیلم یوسف کے پہلے سوال نیب کا شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرنے کا حکم، نئے چیف الیکشن کمشنر پر تاحال وزیراعظم خاموش،کیا شہباز شریف اور عمران خان مل کر قانون سازی کرسکتے ہیں؟ جواب میں حسن نثار نے کہا کہ منفی اور مثبت کے ملاپ سے روشنی ہو سکتی ہے تو شہباز شریف

اور عمران خان بھی مل کر قانون سازی کر سکتے ہیں۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ شہباز شریف کے پاس اثاثے منجمد ہونے پر قانونی چارہ جوئی کا حق ہے،چیف الیکشن کمشنر پر بھی اتفاق رائے ہوجائے گا،فارن فنڈنگ کیس اگلے چیف الیکشن کمشنر پر چھوڑنا اچھا فیصلہ ہے۔ محمل سرفراز کا کہنا تھا کہ شہباز شریف اور عمران خان مل کر قانون سازی نہیں کرسکتے ہیں، نیب غیرسیاسی نہیں ہے بلکہ اس کا کردار متنازع ہوگیا ہے۔مظہر عباس نے کہا کہ حکومت الیکشن کمیشن کے ارکان کیلئے اپوزیشن کے کسی نام پر اتفاق کرسکتی ہے۔ بابر ستار کا کہنا تھا کہ نیب شہباز شریف کے اثاثے منجمد کرسکتی ہے، شہباز شریف جب تک اپوزیشن لیڈر ہیں ان کا کردار بھی برقرار ہے۔ دوسرے سوال عمران خان کی سرکاری افسران کو بلاخوف و خطر کام جاری رکھنے کی ہدایت،کیا بشیر میمن کا استعفیٰ وزیراعظم کے دعوے کی نفی ہے؟ بابر ستار نے کہا کہ پاکستان میں کسی آزادانہ سوچ رکھنے والے افسر کو پسند نہیں کیا جاتا ہے،جس طرح معاملات پہلے چلتے رہے ابھی بھی چل رہے ہیں۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ سابق ڈی جی ایف آئی اے بشیر میمن نے دباؤ کی وجہ سے استعفیٰ دیا ہے، بشیر میمن پر دو دباؤ تھے ایک مریم نواز کیخلاف انسداد دہشتگردی کا مقدمہ اور دوسرا خواجہ آصف کیخلاف آرٹیکل چھ کا مقدمہ درج کرنا تھا۔ ارشاد بھٹی نے کہا کہ بشیر میمن نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں سندھ سے بے انتہا دباؤ برداشت کیا،بشیر میمن کی ریٹائرمنٹ میں اٹھارہ دن باقی تھے۔