انا للہ وانا الیہ راجعون۔۔۔!!! پارٹی میں سوگ کا سماں، تحریک انصاف کے اہم رہنماء انتقال کر گئے

پشاور(نیوز ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما معراج خالداچانک دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے ہیں۔تدفین کا عمل شاہ پور میں کیا جائیگا،اس پرتمام ارکین نے گہرے دکھ کا اظہارکیا ہے ۔اس حوالے سے وزیر اطلاعات خیبر پختونخوا شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ مجھے معراج خالد کی اچانک وفات کا

سن کر انتہائی رنج اور تکلیف ہوئی ہے، وہ تحریک انصاف کا ایک بہت بڑا اثاثہ تھے۔شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ معراج خالد ایک اچھے اور ہمدرد انسان تھے اور ہر ایک کے ساتھ ہمدردی سے پیش آتے تھے، ان جیسے مخلص کارکن بہت کم پیدا ہوتے ہیں، ان کی کمی ہمیشہ محسوس ہوتی رہے گی۔ان کا مزید کہنا ہے کہ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں ان کی جدائی کو کس طرح بیان کروں، اللہ ان کی مغفرت کرے اور انکے خاندان اوراحباب کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق شوئٹنگ والی بال کے نامور کھلا ڑی چو ہدری محسن سموٹ کو قتل کر دیا گیا، مقتول کی نماز جنازہ کے بعد آبائی علاقے میں تدفین بھی کردی گئی ۔ ذرائع کے مطابق اس کو چند دوستوں نے خنجر کے وار کرکے قتل کیا ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہو نے والی چو ہدری محسن کی تصاویر میں ان کی تینوں انگلیاں بھی کا ٹی گئیں ہےں جب کہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ انہیں قتل کر کے چھت کی چوتھی منزل سے نیچے پھینکا گیا ہے تاہم ابھی تک قتل کی وجوہات اور مکمل رپورٹ سامنے نہیں آئی۔چو ہدری محسن سموٹ کا شمار پاکستان کے ناموروالی بال کے کھلاڑیوں میں ہو تا تھا۔چو ہدری محسن کی وفات کی خبر سن کر ان کے دوست احباب کے اندر غم کی لہر دوڑ گئی۔مرحوم کی نماز جنازہ سموٹ تحصیل کلر سیداں ضلع روالپنڈی ادا کرنے کے بعد انہیں سپر خاک کردیا گیا ۔دوسری جانب اسلام آباد پولیس 48گھنٹے گزرنے کے باوجود والی بال کے کھلاڑی محسن فاروق کے مبینہ قتل کی عینی شاہد خاتون تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ بھانجے کے قتل کی اطلاع ملتے ہی راولپنڈی کی تحصیل کلر سیداں کے موضع سموٹ کے رہائشی اخلاق احمد نے تھانہ لوئی بھیر پہنچ کر مقدمہ درج کرا دیا تھا کہ مقتول اپنے دوستوں محمد کلیم ، شیراز عرف چیئرمین، ناصر عرف مودی ، شہزاد احمد عرف دادا اور اسد کے ہمراہ گھر سے کار میں اسلام آبادآئے ،

محسن نے عاصم اشتیاق اور مناظر نواز کی موجودگی میں بتایا کہ وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ فیز فور جارہے ہیں ،رات ڈیڑھ بجے عدیل نے کال کر کے بتایا کہ مجھے کلیم نے کال کر کے بتایا ہے کہ محسن فاروق قتل ہو گیا ہے، اس سے قبل ہی پولیس نے موقع پر پہنچ کر نعش پمز ہسپتال منتقل کر دی تھی اور سوک سینٹر کے ایک پلازہ میں موجود مقتول کے پانچوں دوستوں کو حراست میں لے لیا تھا۔پولیس تفتیش کے مطابق مقتول کےساتھ اکیلے ہی پانچوں فلور کے کمرے میں موجود دوشیزہ موقع سے چلی گئی تھی، دیگر تین لڑکیاں اسکے دوستوں کے ساتھ موجود تھیں، ان تمام نے محسن فاروق کی موت کی وجہ سے لاعلمی کا اظہار کیا، پولیس نے قتل کا مقدمہ تو درج کر لیا ہے مگر ابھی تک حراست میں لیے گئے مقتول کے دوستوں کی باقاعدہ گرفتاری ظاہر نہیں کی۔ جائے وقوعہ کا معائنہ کرنےوالے بیشتر حکام موت کو پانچویں منزل سے گرنے کی وجہ قرار دے رہے ہیں۔اس بات کی بھی تصدیق ہو گئی ہے کہ وہاں جمع ہونیوالے بوتلیں بھی ساتھ لائے تھے، پولیس کے مطابق 10 روز قبل بھی انہوں نے ان فلیٹوں میں ڈیرہ ڈالا تھا۔ ذرائع کے مطابق مبینہ مقتول نے تیسری اور5 ویں منزل پر دو فلیٹ ایک ماہ کیلئے کرایہ پر لے رکھے تھے۔ پولیس 48 گھنٹوں کی تفتیش کے باوجود زیر حراست افراد سے محسن فاروق کی موت کا راز اگلوانے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ دوسری طرف پولیس مخالف لابی کا الزام ہے کہ پولیس کی لاٹری نکل آئی ہے، کھاتے پیتے گھرانوں کے جوان قتل کے الزام میں اسکی تحویل میں ہیں۔