شہباز شریف کے چودھری نثار سے مسلسل رابطے اور ملاقاتیں: چھوٹے میا ں کیا چاہتے ہیں؟ چودھری صاحب کس بات پر بضد ہیں؟ اندورنی کہانی سامنے آگئی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مسلم لیگ (ن) کے منتخب صدر شہبازشریف اور چوہدری نثار ایک صفحہ پر ہیں ،شہبازشریف اور چوہدری نثار کے درمیان مسلسل رابطہ موجود ہے ، جس کا اظہار چوہدری نثار نے اپنے حلقہ انتخاب ٹیکسلا میں گزشتہ روز کیا اور ساتھ ہی کہا کہ ان کی شہبازشریف سے ملاقات ہوئی ہے ،

جس کے بعد دونوں نے پنجاب کے مختلف شہروں یعنی ایک کو نا ٹیکسلا اور آخری کونا ڈیرہ غازی خا ن میں ایک ہی دن، تقریباً ایک ہی وقت پر ایک جیسی باتیں کیں جس سے ظاہر ہے کہ ہفتہ کے روز دونوں میں ہونے والی ملاقات میں طے پاگیا تھا کہ انہوں نے عوام اور میڈیا کے سامنے ایک ہی بات مختلف الفاظ اور انداز میں کہنی ہے ،یہ صورتحال مسلم لیگ (ن) کے رہنمائوں، وزراء، ارکان پارلیمنٹ اور پارٹی عہدیداروں، کارکنوں کیلئے تذبذب کا باعث بنی ہوئی ہے جس چیف جسٹس، سپریم کورٹ کو نوازشریف، مریم نواز اور دیگر مزاحمتی رہنمائوں نے ہدف تنقید بنا رکھا ہے ،شہبازشریف اسی چیف جسٹس سے انصاف کے متمنی ہیں اور پیشکش کر رہے ہیں کہ وہ ملتان میٹرو منصوبہ کے بارے میں کرپشن کے الزام پر تحقیقات کیلئے فل کورٹ بینچ قائم کریں اور چوہدری نثار یہ کہہ رہے ہیں کہ نوازشریف کو کہا تھا کہ فوج اور عدلیہ پر تنقید نہ کریں،رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) میں حال ہی میں شامل ہونے والے سینیٹر مشاہد حسین سید بھی شہباز، نثار کے موقف کے زبردست حامی ہیں، وفاقی دارالحکومت کے باخبر حلقے بڑے وثوق سے دعویٰ کرتے ہیں کہ مشاہد حسین سید کی عسکری قیادت سے ملاقات ہوئی ہے

جبکہ شہباز اور نثار کے عسکری قیادت سے رابطے کوئی نئی بات نہیں ، مسلم لیگ (ن) کے قائد نوازشریف کے قریبی حلقے جنہیں مزاحمتی رہنما کہا جاسکتا ہے وہ میڈیا اور عوام میں شہباز، نثار سے مختلف موقف بیان کررہے ہیں ،شہباز، نثار کے بیانات اور تقریریں قائد نوازشریف کے بیانیہ سے یکسر مختلف ہیں، یہ صورتحال غیر معمولی ہے اسے محض اختلاف رائے کا نام دے کر صرف نظر نہیں کیا جاسکتا، ظاہر ہورہا ہے کہ شہبازشریف، نوازشریف سے مختلف بیانیہ لیکر عوام میں نکلے ہوئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ (ن) لیگ کے ووٹرز کی زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں اپنے بیانیہ کی تقویت دینے کیلئے عوامی طاقت چاہتے ہیں تاکہ نوازشریف کو جارحانہ طرزعمل پر نظرثانی کیلئے قائل کیا جاسکے ،(ن) لیگی بااعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف، شہباز کی تمام ترکوششوں کے باوجود بیانیہ بدلنے کیلئے تیار نہیں ہیں،انتخابات تک نوازشریف کا ہی بیانیہ چلے گا،اب سوال یہ ہے کہ شہباز، قائد کے بیانیہ کو تسلیم کرلیں گے یا کہ اپنا موقف جاری رکھیں گے ،یہ وقت ثابت کریگا وہ کتنے بااختیار پارٹی صدر ہیں، یہ صورتحال آئندہ چند دنوں میں واضح ہونا ضروری ہے کہ مسلم لیگ (ن) مکمل یکسوئی کیساتھ اپنی انتخابی مہم چلاسکے ،دلچسپ امر یہ ہے کہ دیگر پارلیمانی جماعتوں پیپلزپارٹی، تحریک انصاف، جے یو آئی سمیت چھوٹی بڑی جماعتوں کا ایک بیانیہ ہے اور ملک کی سب سے بڑی جماعت ہونے کی دعویدار مسلم لیگ (ن) کے دو بیانیے ہیں، مختلف بیانیہ رکھنے کے باوجود نواز، شہباز 2018کا الیکشن جیتنے کا مشترکہ دعویٰ کر رہے ہیں،یہ صورتحال دلچسپ اور حیران کن ہے ، (ن) لیگ کا ووٹر، سپورٹر اس پریشانی اور فکر میں مبتلا نظر آتا ہے کہ وہ پارٹی کے قائد کے بیانیہ کو آگے بڑھائے یاکہ نومنتخب صدر کے بیانیہ کی تقویت کیلئے مقامی سطح پر کردار ادا کرے ۔(طارق عزیز)