نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا معاملہ: اب کس بات پر ڈیڈ لاک پیدا ہو گیا ۔۔۔ سارے معاملے کو مزید پیچیدہ بنا دینے والی تفصیلات

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کے معاملے پر حکومت کی جانب سے تاحال کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے اور وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا ہے کہ ذیلی کمیٹی نے اس سلسلے میں سفارشات پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے

جسے بدھ کو کابینہ کے سامنے پیش کر دیا جائے گا۔ ادھر نواز شریف کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ معاملے کے حل کے لیے فی الوقت پہلی ترجیح بات چیت ہے اور عدالت سے رجوع کرنے کے آپشن پر جماعت سے مشاورت کے بعد ہی غور آئے گا۔‘ مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف اس وقت عدالت سے ضمانت ملنے کے بعد لاہور میں اپنی رہائش گاہ پر ہی زیرِ علاج ہیں جہاں ان کے لیے انتہائی نگہداشت کا یونٹ قائم کیا گیا ہے۔ ان کی صحت کا جائزہ لینے والے میڈیکل بورڈ نے علاج کی غرض سے انھیں بیرونِ ملک بھیجنے کا مشورہ دیا ہے تاہم ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام ہونے کی وجہ سے وہ تاحال سفر نہیں کر سکے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے منگل کی شام پریس کانفرنس میں بتایا تھا کہ وفاقی کابینہ نے ووٹنگ کے بعد نواز شریف کو باہر جانے کی مشروط اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کے مطابق سابق وزیراعظم کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے لیے کابینہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے باہر جانے سے قبل ’واپسی کی مدت‘ کے بارے میں بتائیں اور ’ضمانتی بانڈز‘ بھی جمع کرائیں۔ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے وکلا نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے منگل کے اجلاس میں سابق وزیر اعظم کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے سے متعلق ان کے سامنے کچھ مطالبات رکھے جن میں نواز شریف کی واپسی کی تاریخ

اور ان کی ملک واپسی سے متعلق ضمانت ’شیورٹی بانڈز‘ کی صورت میں دینے جیسے مطالبات سرفہرست ہیں۔ تاہم نواز شریف کے وکلا کا موقف ہے کہ اسلام آباد اور لاہور ہائی کورٹ سے ان کے موکل کی ضمانت کا فیصلہ ہو چکا ہے اور وہاں ضمانتی بانڈ بھی جمع کروائے گئے ہیں لہٰذا مزید ضمانت کی ضرورت نہیں۔ اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے سفارشات پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے جو بدھ کو کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا، وفاقی کابینہ کی مرضی ہے کہ وہ سفارشات پر جو بھی فیصلہ کر لے۔ فروغ نسیم نے مزید کہا کہ فیصلہ جلد ہو گا اور میرٹ پر ہی ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے یا نہ نکالنے کے فیصلے کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہیں دیا جا سکتا۔ ایگزیٹ کنٹرول لسٹ سے نواز شریف کا نام نکالنے کا معاملہ متنازع ہونے کے بعد ان کے وکلا ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کے آپشن پر بھی غور کر رہے ہیں۔ نواز شریف کے وکیل بیرسٹر منور اقبال دُگل نے بدھ کو بی بی سی کی نامہ نگار سحر بلوچ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس وقت پہلی ترجیح بات چیت ہے، اس کے علاوہ عدالت جانے کا آپشن جماعت سے مشاورت کے بعد زیرِ غور آئے گا۔‘ خیال رہے کہ وفاقی کابینہ کی ذیلی کمیٹی نے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کے معاملے پر مزید کارروائی بدھ تک ملتوی کر دی تھی تاہم تاحال کمیٹی کا اجلاس منعقد نہیں ہو سکا ہے۔