وزیر اعظم نے تاریخی موقع گنوا دیا۔۔۔!!! آج کُرتار پور راہداری کے افتتاح کے موقع پر کونسی تاریخی غلطی کر بیٹھے جس کا انہیں ہمیشہ دُکھ رہے گا؟ جانیئے

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے آج سکھوں کے روحانی پیشوا بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر کرتاار پور راہداری کا افتتاح کر کے سکھ کمیونٹی سمیت پوری دنیا کو سرپرائز دے دیا اور ساتھ ہی اس بات کا عملی مظاہرہ بھی کیا کہ اسلام ہمیشہ انسانیت اور امن کا درس دیتا ہے

لیکن وزیر اعظم عمران خان اس موقع پر تاریخی غلطی بھی کر بیٹھے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق آج ہی بھارتی سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلہ دیا گیا کہ بابری مسجد کو شہید کر کے اس کی جگہ مندر تعمیر کیا جائے جبکہ مسجد کے لیے مسلمانوں کو متبادل جگہ دے دی جائے۔ مبصرین کا کہنا ہے آض کے دن بھارتی میڈیا سمیت پوری دنیا کا میڈیا وزیر اعظم عمران خان کو دیکھ رہا تھجا ، انہیں چاہیئے تھا کہ آج کے دن وہ بابری مسجد کے خلاف آنے والے فیصلے پر بھی بولیں لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور وہ ایک شاندار موقع گنوا چکے ہیں۔ انہیں چاہیئے تھا کہ اس موقع پر مسئلہ کشمیر کے ساتھ بھارت کے مسلمانوں کے حق میں بھی آواز اُٹھاتے اور بابری مسجد کے خلاف آنے والے فیصلے پر رد عمل دیتے۔ خیال رہے کہ تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں سب سے پہلے سکھ برادری کو گرونانک دیو جی کا 550 وی سالگرہ کی مبارک باد دیتا ہوں۔آج میں تمام سکھ برادری کو مبارک باد دینے کے بعد میں سلام پیش کرتا ہوں اپنی ٹیم کو جس نے 10 مہینوں میں میرا یہ خواب سچ کر دکھایا۔میری دل سے سب کے لیے دعائیں ہیں۔مجھے خوشی ہوتی ہے دیکھ کر جس طرح میرے یار نےشعروشاعری کی دل سے کی ۔اور جب دل خوش ہوتا ہے تو اللہ خوش ہوتا ہے ۔ جو بھی اللہ کے پیغمبر اس دنیا میں وہ صرف دو پیغام دنیا میں لے کر آئے۔ ایک انسانیت کا اور دوسرا انصاف کا۔ یہ دو کام ایسے ہیں جو انسان اور جانوروں کو الگ کرتی ہیں۔ بابا گرونانک دیو جی جو بھی سکھ برادری

کے علاوہ ان کا فلسفہ پڑھتا ہے تو یہی بات سامنے آتی ہے۔ انسانوں سے پیار کا پیغام ہی بابا جی نے بھی دیا۔دنیا میں بڑے بڑے جتنے بھی صوفی آئے آج بھی لوگ ان کے مزاروں پر جا کر ان کو دعائیں اسی لیے دیتے ہیں کیونکہ وہ بھی انسانیت کا پیغام دیتے ہیں ۔ مجھے بابا گرونانک راہداری کی اہمیت کا اندازہ آج سے ایک سال پہلے ہوا ۔میں اپنی گورنمنٹ کا شکر گزار ہوں جنہوں نے بہت ہی تھوڑے سے عرصے میں بہت بڑا کام کر دکھایا۔ نیلسن منڈیلا کی بات کروں تو ان کا بھی یہی فلسفہ تھا۔ساوتھ افریکہ میں فرقے بنے ہوئے تھے۔کوئی یہ نہیں سمجھتا تھا کہ یہاں پر بھی کبھی انصاف ہو گا لیکن اک لیڈر جو 24 سال جیل میں رہا بھر بھی سب کو معاف کر دیا اور باہر آکر لوگوں کے دلوں میں امن کو جکایا۔میں جب وزیراعظم بنا تو میں سب سے پہلے مودی صاحب سے ملاقات کی اور کہا کہ ہم سب مل کر ایک امن کا پیغام دنیا میں پھیلا سکتے ہیں ۔تجارت کر کے دونوں ممالک سپر پاور بن سکتی ہیں۔ کشمیر کے مسلے کو بھی ہل کر کے ایک مثال قائم کر دی جائے۔نریندر مودی سے ہمارے تمام تعلق ختم ہو چکے ہیں کیونکہ انصاف سے امن قائم ہوتا ہے ۔تھوڑے سے کشمیریوں کو اتنی ساری فوج نے بند کر رکھا ہے ۔مودی صاحب اگر مجھے سن رہے ہیں تو ان کے لیے پیغام ہے کہ انصاف کر کے دوستی کا ہاتھ بڑھائیں۔ مجھے آج آپ لوگوں کے چہروں پر خوشی محسوس کر رہا ہوں ۔ جو نفرتیں 70سال سے اس ایک مسلے کی وجہ سے پھیل رہی ہیں اس سے دونوں ملکوں کے لئے بڑا نقصان ہو سکتا ہے ۔ میں اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارا یہ مسلہ جد سے جلد حل ہو جائے۔عمران خان نے سکھوں سے بھی نعرہ تکبیر، اللہ اکبر کے نعرے لگوا دئے۔