اے این ایف نے موقع پرکوئی کارروائی نہیں بلکہ آفس پہنچ کر۔۔۔۔ رانا ثنااللہ کی درخواست ضمانت پر وکیل کے حیران کن دلائل سامنے آ گئے

لاہور (ویب ڈیسک) انسداد دہشتگردی عدالت میں سماعت رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی درخواست پر سماعت جاری ہے، وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اے این ایف نے موقع پرکوئی کارروائی نہیں بلکہ آفس پہنچ کر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق رانا ثنا اللہ کی ضمانت کی

درخواست پر انسداد دہشتگردی عدالت میں سماعت جاری ہے،عدالتی کارروائی شروع ہونے پرفاضل جج نے وکیل اے این ایف نے استفسار کیا کہ کیا رانا ثنااللہ کے کیس کا تمام ریکارڈ مکمل ہو چکا ہے؟وکیل اے این ایف نے عدالت کو بتایا کہ رانا ثنااللہ کے کیس کا تما م ریکارڈ مکمل ہو چکا ہے ، رانا ثنا اللہ کے وکیل فرہاد علی شاہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اے این ایف نے موقع پرکوئی کارروائی نہیں بلکہ آفس پہنچ کر جھوٹی ایف آئی آر درج کی گئی ہے،رانا ثنا اللہ کے سٹاف کے پانچ ممبران کی درخواست ضمانت منظور ہو چکی ہے،سیف سٹی کے کیمروں نے ہمارے موقف کو درست ثابت کیا، سیف سٹی کی فوٹیجز کے مطابق رانا ثنااللہ کی گاڑی تین بج کر چونتیس منٹ پر کینال روڈ پرپہنچی،رانا ثنااللہ کی گاڑی کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو ریکارڈ کا حصہ بنایا گیا ،رانا ثنا اللہ کی درخواست ضمانت سیف سٹی کا ریکارڈ آنے کے بعد دوبارہ دائر دی ہے۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق گورنر پنجاب چودھری سرور نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے نوازشریف کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی، قانو ن کے مطابق مریم نواز کو والد کے ساتھ رہنے دیا گیا، نوازشریف کے بیرون ملک علاج کےلئے بھی مدد فراہم کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز کے بیرون ملک جانے کا معاملہ عدالت میں ہے، مریم نوازکا پاسپورٹ عدالت میں ہے، حکومت کے پاس نہیں،حکومت عدالت کے ہر فیصلے کا احترام کرے گی ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق گورنر پنجاب چودھری سرورنے علامہ اقبالؒ کے مزار پر حاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی ،مزار اقبال پر حاضری کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہا کہ نوازشریف کے بیرون ملک علاج کےلئے کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی