پرانے بیانیے کی ڈسک نکال دی گئی ، نئے سافٹ وئیر اور پروگرام انسٹال کردیا گیا ، اب شریف فیملی کیا کرے گی ؟ صابر شاکر نے نواز شریف اور مریم نواز کی رہائی پر جشن منانے والوں کی امیدوں پر پانی پھیر دینے والی بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) مسلم لیگ نواز کے قائد اور مریم بی بی رہا ہوچکے ہیں‘ شہباز شریف سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں اور اپنی ساری توجہ اپنے بھائی کی صحت اور مستقبل پر دے رہے ہیں ‘وہ فی الحال داخلی سیاست میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے۔ پارٹی دوسرے اور تیسرے درجے کی سیاسی قیادت کے حوالے ہے۔

نامور کالم نگار صابر شاکر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ میاں نواز شریف سے ملاقات کی کسی کو اجازت نہیں‘ جو کچھ طے پایا ہے اس پر مریم بی بی بھی آن بورڈ ہیں اور کسی قسم کی عہد شکنی نہیں کی جارہی‘ کیونکہ جو کچھ بھی طے پایا ہے وہ سب کْچھ نواز شریف کی مرضی و منشا کے ساتھ ہوا ہے اور جزئیات شہباز شریف نے بڑے بھائی کی ہدایت پر طے کی ہیں۔ حسبِ سابق برادر اور دوست ممالک بھی آن بورڈ ہیں ‘اگر اس پر عمل ہوجاتا ہے تو شریف فیملی کو مستقبل قریب نہ سہی مستقبل بعید میں کافی کچھ کھویا ہوا واپس مل سکتا ہے ‘جس میں اقتدار کا ہْما بھی شامل ہے۔اس لیے شریف فیملی مکمل طور پر علاج پر توجہ دے رہی ہے۔ نئے اپ ڈیٹڈ سوفٹ وئیر انسٹال ہوچکے ہیں‘ پرانے بیانیے کی جگہ نئے بیانیے کا ورژن کام کرے گا۔ پرانی ڈسکیں نکال دی گئی ہیں اور نئی وائرس فری ڈسکیں انسٹال کی گئی ہیں۔اس لیے فوری طور پر جاتی امرا غیر سیاسی رہے گا۔جب مناسب وقت آئے گا‘ رونقیں بحال ہو جائیں گی‘ فیملی کے اندر اب اس بات پر مکمل اتفاق ہے۔ دھرنا دھیرے دھیرے طوالت اختیار کر چکا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ اس کی حدت کادائرہ کار بڑھتا جارہا ہے اورمحسوس ہورہا ہے کہ وہ دو ‘چار ‘چھ دن کے لیے نہیں بلکہ اس کی منصوبہ بندی کْچھ زیادہ کی ہے اورمولانا اپنے پتے آہستہ آہستہ ظاہر کررہے ہیں۔ وہ لوگ جو مولانا کا تمسخر اڑا رہے تھے‘ اب اُن کے چہروں پر تفکر نمایاں ہورہا ہے۔

اب تک مولانا کے دھرنے کے بارے میں لگائے جانے والے اکثر اندازے غلط ثابت ہوچکے ہیں‘ مولانا نے ڈی چوک جانے کا الٹی میٹم واپس لیا تو عام تاثر یہ لیا گیا کہ مولانا کے غبارے سے ہوا نکل گئی ہے یا نکال دی گئی ہے‘ خاص طور پر مسلم لیگ (ن) کی لاتعلقی کے بعد تو تمام کوارٹرز نے سکھ کا سانس لیا اور خوشیوں کے شادیانے بجا دئیے گئے۔کم فہم وزرا نے مولانا کی تعریف کرکے سیاسی فائدہ حاصل کرنے کی بجائے مولانا کا مذاق اڑایا‘ انہیں شکست خوردگی کا طعنہ دیااور جلتی پر مزید تیل ڈالا‘جس کے بعد مولانا مزید جارح ہوگئے اور یوں آزادی مارچ تیرہویں روز اور دھرنا نویں روز میں داخل ہوگیا ۔چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کی خدمات لینے کے بعد تو سمجھا جانے لگا کہ بس اب مولانا مان جائیں گے ‘لیکن شوگر فری حلوہ سفارتکاری سے بھی تاحال کوئی بریک تھرو نہیں ہوسکا۔ اپوزیشن جماعتوں پرمشتمل رہبر کمیٹی کے فورم پر تمام تر فروعی اختلافات کے باوجود حکومت کی جمہوری اور آئینی طریقے سے تبدیلی پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ رہبر کمیٹی کے آخری اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ تین روز میں حکومت پر تین اطراف سے مزید دباؤ بڑھایا جائے گااور یہ ایسا دباؤ ہوگا کہ میڈیا بھی خوش ہو گا۔مولانا نے دھرنے میں شرکت کے لئے کارکنوں کے مزید تازہ دم دستوں کی کمک کے لئے ہدایات جاری کردی ہیں ‘دھرنے کے مقام پر ہی 12 ربیع الاول کے موقع پر سیرت النبی کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کردیا گیا ہے۔

جس اندازِ سیاست سے سب کی جان جاتی ہے مولانا وہی طرزِ تکلم زیادہ سے زیادہ استعمال کررہے ہیں‘ یعنی مذہبی کارڈ کا استعمال۔مولانا کی تقاریر میں سیاسی مطالبات بہت کم جگہ پاتے ہیں ‘جبکہ ان کی تقریریں اسرائیل ‘قادیانی‘ کرتار پورہ ‘اور ناموس رسالتﷺ کے موضوعات سے بھرپور ہوتی ہیں۔ وہ ”کہنا بیٹی کو سنانا بہو کو‘‘کے مصد اق اپنے تیر برساتے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاک فوج کے ترجمان کو اب تک دو مرتبہ مولانا کے الزامات کی نفی کرنے کے لیے سامنے آنا پڑا ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر برائے مذہبی امورنورالحق قادری کو بھی مولانا کے مذہبی کارڈ کو ڈس کریڈٹ کرنے کیلئے دوبار پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ اپوزیشن اپنے تین بنیادی مطالبات پر ڈٹی ہوئی ہے یعنی وزیراعظم کا استعفیٰ‘ اسمبلیوں کی تحلیل اور فوج کی مداخلت کے بغیر نئے انتخابات کا انعقاد۔ ظاہر ہے یہ ایسے مطالبات ہیں جنہیں محض ایک دھرنے کے نتیجے میں منظور کرنا خارج از امکان ہے۔ دونوں فریق درمیانی راستہ تلاش کرنے کی روز ایک نئی نوید سنا دیتے ہیں‘ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ دونوں ہی غیرلچکدار موقف پر قائم ہیں۔ حکومت اپوزیشن کو انتخابی اصلاحات اور دھاندلی کی تحقیقات کے لیے سوائے ایک کمیشن کی تشکیل کے‘ کچھ اور دینے کو تیار نہیں۔ بظاہر دھرنے کے تین فریق ہیںاپوزیشن‘ حکومت اور راولپنڈی۔تینوں فریق کمال کی خود اعتمادی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ہر کوئی اپنے تئیں مطمئن نظر آتا ہے۔ راولپنڈی میں مکمل سکون اور ہاؤس اِن آرڈر ہے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ دھرنے سے ان کا لینا دینا نہیں ہے‘ یہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک سیاسی ایونٹ ہے ‘وہ جیسے چاہیں حل کریں۔

حکومت اس لیے مطمئن دکھائی دیتی ہے کہ راولپنڈی ان کے ساتھ جم کر کھڑا ہے اور بقول ان کے ابھی تک اپوزیشن حکومت اور راولپنڈی میں کوئی دراڑ نہیں ڈال سکی۔ وزیراعظم عمران خان اپنے رفقاسے کھلے عام کہتے ہیں کہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں۔شاید عمران خان کو اندازہ ہے کہ اپوزیشن کے نشانے پر صرف وہی نہیں بلکہ کوئی اور بھی ہے اور یہ کہ مسئلہ جلد حل کرلیا جائے گا۔ ان کی یہ کیلکولیشن یہ ہے کہ راولپنڈی انہیں گرنے نہیں دے گا‘ اس لیے وہ ایک لمحے کے لیے بھی متفکر نظر نہیں آئے‘ جبکہ تیسرا فریق یعنی اپوزیشن بڑی سبک رفتاری سے اپنے دونوں مخالفین کو نشانہ بنارہا ہے۔ اپنے تین مطالبات کے ساتھ ساتھ ان کی ایک اور کوشش بھی سامنے آچکی ہے کہ انہیں اِن ہاؤس تبدیلی‘ یعنی تحریک ِعدم اعتماد پیش کرنے دی جائے اور یہ کہ تحریکِ عدم اعتماد میں راولپنڈی نہ صرف نیوٹرل ہوجائے بلکہ ان پر نظر ِکرم بھی کرے۔گو کہ فوری طور پر اس کی کوئی شکل نظر نہیں آتی؛ تاہم پاک فوج کے ترجمان نے اتنا ضرور کہہ دیا ہے کہ مولانا کا مارچ اور دھرنا سیاسی سرگرمی ہے‘ اس میں فوج کا بحیثیت ادارہ کوئی کردار نہیں‘اور ساتھ ہی ایک گگلی بال بھی کروادی کہ دھرنا جمہوری سرگرمی ہے‘ اس کو حکومت اور اپوزیشن جیسے بھی آگے لے کر چلتی ہے‘ یہ ان کا دائرہ کار ہے۔اپوزیشن کے ہاتھ میں ابھی کچھ نہیں لیکن وہ دباؤ میں ضروراضافہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ فریقوں کا اعتماد ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال ہرگز نارمل نہیں

اور کہیں نہ کہیں بلّف ہو رہا ہے۔ کون کس کے ساتھ مخلص نہیں‘ یہ تو وقت ہی بتائے گا‘ لیکن یہ بات واضح ہے کہ اپوزیشن کو کچھ نہ کچھ دینا پڑے گا‘ اتناکچھ کہ جس پر پیپلز پارٹی اور خاص طور پر مولانا مطمئن ہوں۔ تحریک عدم ِاعتماد اور ان ہاؤس تبدیلی کی بازگزشت کے بعد اتحادی جماعتوں مسلم لیگ( ق) ‘بی این پی مینگل‘ ایم کیو ایم اور جی ڈی اے نے اپنے بال سنوارنے شروع کردئیے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ایسا کْچھ ہوا تو پی پی پی اور مسلم لیگ( ن) ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کریں گے اور ان میں سے کسی کا چھکا لگ سکتا ہے۔عمران خان اور تحریکِ انصاف کے لیے یہ پہلا بڑا سیاسی چیلنج ہے‘ اگر پی ٹی آئی نے مسئلہ جلد حل نہ کیا تو پھر ہمارے سیاسی کلچر کے عین مطابق کوئی اتحادی بھی یہ کہہ سکتا ہے کہ صورتحال کا جلد سیاسی حل نکالا جائے۔ جس روز یہ بیان سامنے آگیا تو اقتدار کے پاؤں تلے سے زمیںکھسک جائے گی۔ اہم بات یہ ہے کہ کافی عرصہ ہوا وزیراعظم اور آرمی چیف کی نہ تو کوئی خبر آئی اور نہ ہی تصویر جاری کی گئی ہے۔ یہ ملاقات جب بھی ہوگی‘ کافی اہم ہوگی۔ ایک فریق کا رویہ کافی محتاط ہوچکا ہے‘ کیونکہ اب کوئی کسی دوسرے کا وزن اٹھانے کے لیے نہ تو تیار ہے اور نہ ہی ماحول۔اپوزیشن نے پہلے مرحلے میں ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد لانے کا فیصلہ کیا ہے‘ تحریک کے نتائج دھرنے کے نتائج کی نوید دے سکتے ہیں کہ امپائر کا مْوڈ تبدیل ہو ایا نہیں۔(ش س م)