بڑی خبر: مریم نواز کی رہائی میں تاخیر کیوں کی گئی ؟ وجہ ایسی کہ آپ کویقین نہیں آئے گا

لاہور(ویب ڈیسک) مریم نواز کی رہائی میں اب تک تاخیر کیوںکی جا رہی ہے؟ انتہائی حیران کن وجہ سامنے آگئی۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کی ضمانت ہونے کے بعد یہ سوالات اٹھائے جا رہے تھے کہ کیا وہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ میں شرکت کریں گی ۔

اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ مریم نواز کے آزادی مارچ میں شرکت سے حکومت پر دباؤ میں مزید اضافہ ہو جاتا تاہم مریم نواز کی رہائی کے روبکار جاری نہیں کیے گئے جس پر مریم نواز کے وکلاء کی جانب سے کہا گیا مریم نواز کی رہائی میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی ۔ اسی حوالے سے تجزیہ پیش کرتے ہوئے سینئیر تجزیہ نگار محمل سرفراز نے کہا ہے کہ وزیر ریلوے شیخ رشید ٹرین حادثوں پر توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مذاکرات کے نتیجے میں یقینا کسی درمیانی راستے پر اتفاق ہو گا۔ انہوں نے مزید کہا مریم نواز کی ضمانت کو 24 گھنٹے ہو گئے لیکن ان کی آزادی مارچ میں شرکت کے خوف سے انہیں رہا نہیں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اب سے کچھ دیر قبل احتساب عدالت نے مریم نواز کی رہائی کے روبکار جاری کر دئیے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما روبکار لے کے کوٹ لکھپت جیل سے روانہ ہو گئے ہیں۔ گذشتہ روز مریم نواز شریف کے وکلا نے کہا تھا کہ مریم نواز کی رہائی میں جان بوجھ کر تاخیر کی گئی۔ مریم نواز کے وکلا نے موقف اختیار کیا تھا کہ جب وکلا کی ٹیم ساڑھے تین بجے مچلکے لے کر عدالت پہنچی تو ججز اٹھ چکے تھے جب کہ عدالت کا وقت چار بجے تک تھا۔ ذرائع کے مطابق کے مطابق مسلم لیگ ن کی وکلا ٹیم نے رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ سے رابطہ کیا کہ مچلکے ایک انتظامی معاملہ ہے انہیں جمع کروانے کی اجازت دی جائے۔ رجسٹرار لاہور ہائی کورٹ نے احتساب عدالت کے جج سے رابطہ کیا تو انہیں بتایا گیا کہ احتساب عدالت ایک وفاقی عدالت ہے وہ ہائیکورٹ کے ماتحت نہیں اور ہائی کورٹ کے اوقات کار ان پر لاگو نہیں ہیں جبکہ وزارت قانون کے مطابق ان عدالتوں کا وقت تین بجے تک ہے. خیال رہے کہ ہائیکورٹ کی ماتحت عدالتوں کا وقت چار بجے تک ہے، جبکہ مریم نواز کے مچلکے لے کر ان کے وکلا کی ٹیم ساڑھے تین بجے احتساب عدالت پہنچی تھی۔