عمران خان مولانا فضل الرحمٰن سے معافی مانگ لے تو ۔۔۔۔۔۔ مفتی کفایت اللہ کا حیران کن مطالبہ سامنے آگیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک )جمعیت علماءاسلام ف کے رہنما مفتی کفایت اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو معاملے کی سنگینی کا ادراک نہیں ہے اور اسی وجہ سے حکومت نے جمعیت علماءاسلام ف کے ساتھ کیا ہوا معاہدہ توڑ دیا ہے ۔ نجی نیوز چینل اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں گفتگو

کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جب حکومتی کمیٹی تشکیل دی گئی تو اس کے فوری بعد وزیراعظم عمران خان نے مولانا فضل الرحمان کے خلاف ہتک آمیز بیان دیا ۔انہوں نے کہا کہ اگر عمران خان اپنے اس بیان پر مولانا فضل الرحمان سے معافی مانگ لیں تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں ۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق جمیعت علماء اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل دیں گے، کل اپوزیشن جماعتون کی اے پی سی ہے، جس میں پوری قیادت متفقہ فیصلہ کرے گی،عمران خان سن لو! یہ تحریک سیلاب آگے بڑھتا جائے گا ، پلان اے کے بعد پلان بی اورسی بھی ہے،ہم جان ہتھیلی پر رکھ کر آئے ہیں۔ انہوں نے اسلام آباد میں پشاورموڑ پر آزادی مارچ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ استعفے کا نہیں قوم کی امانت کا ہے۔ ہمیں کہہ رہے ہیں الیکشن کمیشن میں جائیں، الیکشن کمیشن تو ہم سے زیادہ بے بس ہے۔ فارن فنڈنگ کیس الیکشن کمیشن ہے لیکن فیصلہ نہیں ہوا۔ تمام جماعتوں نے فیصلہ کیا تھا کہ کسی الیکشن کمشین، عدالت میں نہیں جانا،لیکن ہم دھاندلی کے خلاف پارلیمانی کمیٹی کے پاس گئے،لیکن آج تک کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہاں جائیں گے تو پیش قدمی کی طرف جائیں گے، آگے بڑھ کرسخت حملہ کرنے جائیں گے، بتائیں گے اسلام آباد میں آج ایک اجتماع ہے اور پورے پاکستان میں اجتماع کرکے دکھائیں گے۔ یہ سفر رکے گانہیں ، بلکہ اپنے حقوق کی جنگ لڑیں گے۔