سخت جملوں کا تبادلہ ۔۔۔!!! آرمی چیف اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات، ملاقا ت میں مولانا اپنی کرسی سے کھڑے ہوکر آرمی چیف سے کیا کہنے لگے؟ رؤف کلاسرا کے تہلکہ خیز انکشافات

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا کہنا ہے کہ میری کچھ لوگوں سے بات ہوئی ہے، مولانا فضل الرحمان کی غلط فہمی ہے کہ عمران خان مستعفی ہوجائیں گے، پوری فوج عمران خان کے ساتھ ہے مولانا اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہو پائیں گے۔ تفصیلات کے مطابق رؤف کلاسرا کا

کہنا تھا کہ عمران خان کے دھرنے میں دلچسپ یہ تھا کہ حکومت اور فوج کی آپس میں نہیں بن پارہی تھی تب بھی عمران خان نواز شریف سے استعفیٰ لینے میں کامیاب نہیں ہہوپائے تو آج تو پوری فوج ہی حکومت کے ساتھ ہے، عمران خان کس طرح مستعفی ہوں؟ مولانا تک پیغام پہنچایا گیا کہ جتنا اداروں کے خلاف بیانن بازی کی جائے گی اُتنا ہی حالات مذاکرات اور سیٹلمینٹ کی جانب جائیں گے اور مذاکرات کے لیے حالات سازگار ہوتا جائے گا، فوج اور ایجنسیوں کے خلاف بیان بازی سے کچھ نہیں ہوگا صرف مذاکرات کے لیے راہ ہموار ہوگی ، مولانا فضل الرحمان کی جب سے جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی ہے وہ کافی پر اعتماد دکھائی دے رہے ہیں حالانکہ بعض حلقوں کی جانب سے اس چیز پر بھی اعتراض اُٹھایا گیا کہ مولانا سے ملاقات میں آرمی چیف نے جلدی کر لی ہے، یہاں تک بھی سننے میں آیا کہ اس ملاقات میں سخت جملوں کا تبادلہ خیال بھی ہوا، مولانا فضل الرحمان کھڑے ہوگئے اور آرمی چیف کی بات سے انخراف کر دیا ، آرمی چیف کی جانب سے مولانا سے کہا گیا کہ آپ جلسہ نہ کریں اس سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچے گا، ملکی معیشت پہلے ہی ٹھیک نہیں پاکستان کا مزید نقصان ہوگا لیکن مولانا نے ایک نہ سُنی ، مولانا جبب رخصت ہونے لگی تو آرمی چیف کی جانب سے مولانا کو ایک پرفیوم کی شیشی بھی دی گئی کہ سکی طرح انہیں ٹھنڈا کیا جائے،رؤف کلاسرا کا مزید کہنا تھا کہ اب اگر مولانا فضل الرحمان کو ٹھنڈا کرنے کی کوششیں اتنی اعلیٰ سطح سے ہوں گی تو اس کا مطلب ہے کہ مولانا فضل الرحمان تو دھمکیاں دیں گے ہی کیونکہ وہ تو خود آرمی چیف کی کوششوں کو نیوٹرئلائز کر کے آئے ہیں۔آج اسی لیے مولانا فضل الرحمان کا اعتماد آسمان پر ہے کیونکہ وہ پاکستان کی بڑی بندوق (یعنی آرمی چیف سے) انحراف کر کے آئے ہوئے ہیں