اپوزیشن کے مطالبات۔۔۔ حکومت پلان “بی” کے بعد کونسا آپشن استعمال کرے گی؟ تازہ ترین خبر آگئی

کراچی(ویب ڈیسک) پلان بی کی ناکامی کے بعد حکومت نے تیسرے آپشن پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے اپوزیشن کے مطالبات کے معاملے کو ’’مذاکراتی آپشن ‘‘ سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ رہبر کمیٹی کے رہنما سے حکومتی کمیٹی کے اہم ارکان کا پس پردہ رابطوں میں ہیں،

تفصیلات کے مطابق حکومتی کمیٹی کے اہم ارکان نے رہبر کمیٹی کے مختلف رہنماؤں سے پس پردہ رابطوں میں ہیں، ان پس پردہ رابطوں میں دو نوں کمیٹیوں نے مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے، حکومتی کمیٹی وزیراعظم کے استعفیٰ کے علاوہ اپوزیشن کے تمام مطالبات پر ان پر مذاکرات کرے گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکمراں جماعت تحریک انصاف کی قیادت اپوزیشن کے آزادی مارچ کے کارواں اور آئندہ کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے مسلسل مشاورت کر رہی ہے۔ اس مشاورت میں طے کیا گیا ہے کہ اگر معاہدے کی پاسداری کرتے ہوئے اپوزیشن کا آزادی مارچ اپنے مقررہ مقام پر پہنچا تو وفاقی حکومت کی مذاکراتی کمیٹی اپوزیشن کی رہبر کمیٹی سے مذاکرات کے معاملے کو جاری رکھے گی، حکومت احتجاج میں کوئی روکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ اگر حکومت معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی تو اپوزیشن کا رویہ بھی سیاسی اور جمہوری ہوگا، اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ٰ اسلام آباد پہنچنے اور متوقع احتجاجی جلسہ یا دھرنے کے حوالے سے اپنی جماعت کے رفقا سے مشاورت کر رہے ہیں۔ رہبر کمیٹی کے رکن مولانا شاہ اویس نورانی نے رابطہ کرنے پر بتایا کہ اپوزیشن کا حکومت سے مذاکرات کرنے کا آپشن برقرار ہے،آزادی مارچ اسلام آباد پہنچنے کے بعد مشترکہ اپوزیشن قیادت آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی،اپوزیشن کی رہبر کمیٹی ہی حزب اختلاف کے مطالبات پر اسلام آباد میں حکومتی کمیٹی سے مذاکرات کرے گی ۔