آزادی مارچ کو پنجاب میں داخلے سے روکنے کی اطلاعات پر جے یو آئی ایف کارکنان نے کیا حکمت عملی تیار کر لی؟ حکومت کی مشکلات میں اضافہ کر دینے والی خبر

کراچی (ویب ڈیسک) آزادی مارچ کوپنجاب میں داخلے سے روکنے کی اطلاعات پرجے یوآئی نے متبادل حکمت عملی کے تحت کارکنان کو آپشن ون پر عملدرآمد کا سگنل دے دیا، کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے پیش نظر اوباڑو کے قریب قومی شاہراہ،ریلوے لائن بلاک کرنے کی تیاری کر لی گئی،

مولانا فضل الرحمن کی ممکنہ گرفتاری یا مارچ کے روٹ میں رکاوٹ کی صورت میں جے یوآئی نے ملک میں 5مختلف مقامات پر قومی شاہراہوں ،ریلوے لائن کوبند کرنے کی حکمت عملی طے کررکھی ہے ۔ کراچی سے اسلام آباد کیلئے روانہ ہونے والے آزادی مارچ کارواں کوسندھ پنجاب سرحد عبور کرنے کے بعد پنجاب کی حدود میں داخل ہوتے ہی اوباڑو سے کوٹ سبزل کے درمیان کسی مقام پرروکنے کی اطلاعات موصول ہونے پرجے یوآئی نے شدید ردعمل کے اظہارکا فیصلہ کرلیا ہے اور متبادل حکمت عملی کے تحت مزاحمت کیلئے تیار کیے گئے 5نکاتی آپشنزمیں سے کارکنان کو آپشن ون پرعملدرآمد کا سگنل دے دیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یوآئی کی قیادت نے معتبر ذرائع سے یہ اطلاع ملنے کے بعد کہ آزادی مارچ کاروان کو پنجاب میں داخلے کے بعد کوٹ سبزل ، سنجرپور کے مقام پرروکنے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے منصوبہ تیاراور انتظامات کرلی گئے گئے ہیں ان اطلاعات کے بعد جے یوآئی نے شمالی سندھ اورجنوبی پنجاب کے مستعد کارکنان کومتبادل حکمت عملی کے تحت آپشن ون پرعملدرآمد کی ہدایت کردی ہے ۔ جے یوآئی کے ایک ذمہ دار عہدیدار کے مطابق پنجاب حکومت کی جانب سے کسی بھی ممکنہ رکاوٹ کے پیش نظر اوباڑو کے قریب قومی شاہراہ،ریلوے لائن بلاک کرکے احتجاج ریکارڈ کراناپہلی حکمت عملی ہے جس کے لیے کارکنان کا ایک قافلہ بیک اپ کے طور پرتیارہے ۔ جے یوآئی کی جانب سے حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ اگر آزادی مارچ کاروان روکنے یا قیادت کو گرفتارکرنے کی کوشش کی گئی تو ملک میں پانچ مختلف مقامات پر قومی شاہراہ،ریلوے لائن کو بند کر کے لاک ڈاؤن کیا جائے گا جس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔