55 سالہ رفاقت کا خاتمہ۔۔۔!!! پیپلز پارٹی کے بانی رہنماء نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی

مظفرآباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر سے بڑا جھٹکا، پیپلز پارٹی آزادی کشمیر سے پارٹی کے بانی رہنماء نے پارٹی سے معتفی ہوتے ہوئے تھریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے بانی رہنماء خواجہ عبد الغنی نے پارٹی کے ساتھ 55

سالہ رشتہ ختم کر دیا ہے اور مستعفی ہوتے ہوئے باقاعدہ طور پر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر میں تحریک انصاف آزاد کشمیر کے رہنماؤں کی جانب سے ایک پروقار تقیرب کا انعقاد کیا گیا ، تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خواجہ عبد الغنی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کو حقیقت ترقی اور خوشخالی کی راہ پر ڈال دیا ہے، عمران خان کے فیصلے بلا شبہ غیر سیاسی تھے لیکن انہی فیصلوں کی بدولت پاکستان آج صحیح سمت چل نکلا ہے، جتنا بھی مشکل وقت تھا وہ گزر گیا اب پاکستان میں خوشخالی آںے والی ہے، قوم نے جس حقیقی تبدیلی کے لیے عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا تھا وہ دن قریب ہیں، بدقسمتی یہ ہے جمہویرت پسند قوتیں ایک مرتبہ پھر اکٹھی ہوگئی ہیں اور پاکستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں، مولانا فضل الرحمان کا آزادی مارچ کا اعلان پاکستان اور پوری قوم کے ساتھ کھلی دشمنی اور صراصر زیادتی ہے، 27 اکتوبر کو پوری قوم کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے باہر نکلتی ہے جبکہ پاکستان کی مخالف قوتیں اسی تاریخ کو احتجاج کر کے کشمیر کاز کو نقصان پہنچانے جا رہی ہیں، یہ صرف دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ اس سے قبل راجن بخش گیلانی اور پیر حمید الدین سیالوی کے بعد اب سجادہ نشین داتا دربار نے بھی نواز لیگ چھوڑ کر اپنے ساتھ 6 چیئرمین، 13 وائس چیئرمین، 38 کونسلرز اور تمام کارکنان کے ہمراہ پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، سجادہ نششین حامد محمود پریس کانفرنس کے بعد تحریک انصاف میں شمولیت کا باقاعادہ اعلان کریں گے۔ اس حوالے سے حامد محمود کا کہنا تھا کہ عمران خان جس طرح امت مسلمہ، مسئلہ کشمیر، اور امن کا مقدمہ لڑ رہے ہیں اسکی اس سے پہلے مثال نہیں ملی، عمران خان ہی وہ واحد لیڈر ہیں جنہوں نے پاکستان کے اصلی تصویر کو پوری دنیا کے سامنے اجاگر کیا ہے، اس وقت جو پاکستان کو معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ سابقہ حکومت کی ناکامی کا ملبہ ہے جس سے عمران خان پاکستان کو نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اگر سابقہ ادورا میں بے ہنگم کرپش اور قرضے نہ لیے جاتے تو پاکستان کو اس وقت جن مشکلات کا سامنا ہے وہ نہیں ہونا تھا ، لیکن ہمیں یقین ہے کہ عمران خان کی قیادت میں پاکستان ترقی کرے گا اور پاکستان کا امیج مزید مثبت ہوگا۔