بھارت نے JUIF کی مسلح تنظیم ’ انصار الاسلام‘ کی ویڈیو FATF کی میٹنگ میں دکھائی، اَب مولانا فضل الرحمان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے؟ طاہر اشرفی نے ساری کہانی بیان کر دی

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) پاکستان علمائے کونسل کے چیئر مین مولانا طاہر اشرفی کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے جو یو آئی ایف کی مسلح تنظم انصار الاسلام کی ویڈیو ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں دکھائی گئی ، میرا ذاتی خیال ہے کہ ہر ایک جماعت

نے ایک رضا کار گروپ بنایا ہوتا ہے لیکن جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے بنائی گئی جماعت انصار االاسلام کا معاملہ اس وقت خراب ہوا جب بھارت نے انصار الاسلام کی ویڈیو کلپس ایف اے ٹی ایف کی میٹنگز میں دکھائے۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے نامور عالم دین اور علمائے اسلام پاکستان کے چیئرمین مولانا طاہر اشرفی کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ
تفصیلات کے مطابق معروف عالم دین مولانا طاہر اشرفی نے کہا کہ فکر کرنے کی کوئی بات نہیں، اسلام آباد میں کوئی اسی ہزار بندہ نہیں آرہا ، مولانا فضل الرحمان خود سمجھدار انسان ہیں، انہوں نے ساری زندگی عسکریت کے خلاف ہی جدوجہد میں گزاری ہے، وہ کبھی بھی ڈنڈا بردار افراد کو مسلح قوت میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے، لیکن یہاں پر ایک بات واضح ہے کہ اگر کوئی پاکستان کی سلامتی کے ساتھ کھیلیں گا تو پھر ہمارے ادارے بھی بہت مضبوط ہیں،اور ہمارے اداروں کا ڈنڈا ، سب کے ڈنڈوں سے مضبوط ہے۔ دوسری جانب امد میر کا کہنا تھا کہ شیخ رشید کو یہ بتانا چاہیے کہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ مذاکرات کون اور کس نوعیت کے کر رہا ہے، وہ تو کہتے پھرتے ہیں کہ مولانا کے ساتھ بات چیت فائنل راؤنڈ میں داخل ہوچکی ہے، اگر ہم نے بتا دیا کہ مولانا فضل الرحمان کے کس کس کے ساتھ کس نوعیت کے رابطے ہیں تو پھر شیخ رشید صاحب کی راتوں کی نید اُڑ جائے گی۔


حامد میر کے تجزیہ پر کرنل (ر) وسیم بھی میدان میں آگئے ، اور ایسی بات کہہ دی کہ پورا ملک حیران رہ گیا۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں حامد میر کا کہنا تھا کہ ’’حامد میر کی اسی بات پر کرنل (ر) وسیم نےٹویٹ کیا کہ حامد میر صاحب کی اطلاعات یقیناً ہم سے زیادہ ہیں، کچھ باتیں تو ہمیں بھی پتہ ہیں اور ان میں موسٹ کنفرم یہ کہ مولانا کو کہا گیا ہے کہ یکم نومبر تک اسلام آباد تشریف نہ لائیں، یکم تک استعفیٰ آ جائے گا، اگر نہ آیا تو بے شک 2 کو مارچ لے کر آ جائیں، تمام ادارے غیر جانبدار رہیں گے ‘‘۔