بریکنگ نیوز: حکومت کا مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کر نے کا فیصلہ۔۔۔!!!

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر اینکر پرسن عارف حمید بھٹی کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، پہلے حکومت یہ سوچ رہی تھی کہ مولانا فضل الرحمان کو گھر میں ہی نظر بند یا قید کر دیا جائے لیکن حکومت کے علم میں جیسے ہی یہ بات آئی کہ

جمعیت کے مسلح جتھے وہاں تباہی و بربادی پھیلا سکتے ہیں تو حکومت کی جانب سے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا گیا اور مولانا کی گرفتاری فائنل کر لی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل پر اپنے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر اینکر پرسن عارف حمید بھٹی کا کہنا تھا کہ جمعیت کے رہنماء اپنے بیانات میں یہ باور کراچکے ہیں کہ مولانا کو اگر گرفتار کیا گیا تو پھر سارے ملک مٰن احتجاج کا داہرہ کار پھیلا دیا جائے گا اور شاہراہوں کو بند کر دیا جائے گا، لیکن اب مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے، پہلے حکومت یہ سوچ رہی تھی کہ مولانا فضل الرحمان کو گھر میں ہی نظر بند یا قید کر دیا جائے لیکن حکومت کے علم میں جیسے ہی یہ بات آئی کہ جمعیت کے مسلح جتھے وہاں تباہی و بربادی پھیلا سکتے ہیں تو حکومت کی جانب سے اپنا فیصلہ تبدیل کر لیا گیا اور مولانا کی گرفتاری فائنل کر لی گئی ہے۔
دوسری جانب نامور اینکر پرسن ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ پاکستان پر غیر ملکی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی، احتساب کا عمل مشکوک ہوجائے گا، اداروں میں کسسی قسم کی اصطلاحات نہیں ہونگی کیونکہ ایف اے ٹی ایف میں سب سے بڑی اور لازمی شرط ہی یہی ہے کہ پاکستان میں جمہوریت قائم رہنی چاہیئے، لیکن اس وقت بہت ساری قوتوں کی کوشش یہی ہے کہ پاکستان میں کسی بھی طرح مارشل لاء لگ جائے اور عوام باہر نکل کر اداروں کے ساتھ ٹکرا جائے۔ ڈاکٹر شاہد مسعود کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے محکمہ پولیس کی جانب سے بھی یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ ہمیں لکھ کر دیں اور باقاعدہ ہدایات کریں کہ اس محکمے نے کیا کیا کام کرنے ہیں؟ کیونکہ آخر میں آکر سارے کا سارا ملبہ اس محکمے پر ڈال دیا جاتا ہے، اس وقت مقتدر حلقوں کی کوشش ہے کہ سارے معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کر لیا جائے، اگر یہ معاملات حل نہ ہوسکے تو ملک میں انارکی بڑے گی، علمائے اکرام اور سیاستدان سے حملوں کے ذریعے مشرقی اور مغربی سرحد پر بھی کشیدگی بڑھتی جائے گی ، پاکستان کو افرا تفری سے بچانے کے لیے دوست ملک بھی پاکستان کے مسئلے میں کود پڑے ہیں، اس وقت معاملات سڑکوں پر نہیں گئے لیکن خدانخواستہ اگر یہ معاملات سڑکوں پر چلے گئے تو ملک سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا، اس وقت تما اسٹیک ہولڈرز کو چاہیئے کہ معاملات کو حل کروائیں کیونکہ اگر اب بات ہاتھ سے نکل گئی واپسی کی کوئی راہ نہیں بچے گی۔