کپتان نے ہمت ہار دی، استعفے کا فیصلہ ہوگیا۔۔۔!!!اگلا وزیر اعظم کون ہوگا؟ ایک بریکنگ نیوزنے ملکی سیاست میں طوفان بھرپا کر دیا

لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام کی جانب سے حکومت کو ٹف ٹائم دینے کے لیے آزادی مارچ ٹائپ دھرنے کا اعلان کر دیا گیا ، اس بہتی ہوئی گنگا میں ہاتھ دھونے کے لیے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی بھی مشروط اور غیر مشروط طور پر تقریباً مولانا کا ساتھ دینے کا

اعلان کر چکے ہیں، اس حوالے سے جمعیت کے اہم رہنماء بھی میدان میں آگئے ہیں اور ایسا دعویٰ کر دیا ہے کہ پاکستانی ورطہ حیرت میں ڈوب گئے۔ تفصیلات کے مطابق اپنے ایک بیان میں جمعیت علمائے اسلام کے اہم رہنماء شاہ اویس نوارانی نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ مولانا کو نہیں پکڑ سکتے، ان میں اتنا دم ہی نہیں ہے، یہ نواز شریف سے ڈیل کے لیے پس پردہ منتیں کر رہے ہیں، عمران خان نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اپنی جگہ شاہ محمود قریشی کو لانا چاہتے ہیں لیکن اس سب میں جہانگیر ترین نہیں مان رہے اور وہ اڑے ہوئے ہیں۔
اس سے قبل پنے ویڈیو بیان میں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حکومت کو کمزور کرنے کے لیے اسٹیٹس کو کا استعمال کیا جاتا رہا، عمران خان کو وزیر اعظم 5 سال کے لیے بنایا گیا، حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اس سے قبل الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس وقت ہم جس سمت جارہے ہیں اور جیسے حکومت چل رہی ہے، پاکستانی معیشت کے سارے عشاریئے اوپر جائیں گے، یہ کون لوگ ہیں؟ کس آدمی کو آگے کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ سیاسی مولوی کہتے پھرتے ہیں کہ ہم آئیں گے اور حکومت کا اُکھاڑ پھینکیں گے، کیا ایسے بھڑکیں مارنے سے حکومتیں گر جاتی ہیں؟ جنرل یحییٰ کے دور میں ایک غیر مسلم جج سے پیپر تیار کروا کر مولانا فضل الرحمان کے والد کو پہلی بار اقتدار میں لایا گیا، انکے پاس چند ووٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، سیاسی مولوی ( مولانا فضل الرحمان) کو تیسری بار اقتدار ملا، پہلے 2008ء کے الیکشن میں انکا صفایا ہوا، یہ صرف تین فیصد ہی ووٹ حاصل کر سکے، پھر 2018ء کے الیکشن میں بھی پورا ور لگانے کے باوجود ووٹ حاصل نہی کر سکے، پنجاب کراچی اور اندرون سندھ کے دیگر شہروں میں انکا کوئی وجود ہی نہیں، بلوچستان اور کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں انکا ووٹ بینک موجود ہے، شہباز شریف نے مولوی کو جھنڈی دکھا دی ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین اگر جلسے میں کھڑے ہوگئے تو میں بھی جلسے میں چلا جاؤں گا، مفتی نعیم کی جانب سے آزادی مارچ کی مخالفت کر دی گئی ہے، اگلے 5 سالوں میں تمام ادارے تبدیل کر دیئے جائیں گے عمران خان کسی کا بھی لحاظ نہیں کر رہے تمام افراد حلوے کی دیگ میں لپیٹے جائیں گے۔