شکر الحمد للہ ، پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ۔۔۔۔ تازہ ترین خبر آپ کا دل خوش کر دے گی

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان کی کارروائیوں کے تکمیل کی حدیں پہلے سے موجود خطرات کی وجہ سے اور بھی زیادہ ہیں، تاہم ہماری مسلسل پیش رفت کی وجہ سے یہ حدیں اب کم ہورہی ہیں۔یہ بات وفاقی وزیر اقتصادی امورحماد اظہر نے کہی۔ وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ

سے پاکستان کے نام کے اخراج کے لیے بھی پُر امید ہیں اور جنوری سے ستمبر تک پاکستان کے اقدامات کی فہرست بھی جاری کردی۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں حماد اظہر نے بتایا کہ ایف اے ٹی ایف نے حکومت پاکستان کو 27 اقدامات کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اپنے ٹوئٹ میں انہوں نے ایک تصویر بھی جاری کی جس کے مطابق حکومت پاکستان نے جنوری میں صرف ایک ٹاسک کو مکمل اور ایک کو جزوی طور پر مکمل کیا، تاہم جون تک 14 پر کام ہوا۔وفاقی وزیر کے ٹوئٹ کے مطابق ستمبر تک پاکستان نے 5 ٹاسک پورے کر لیے اور 17 کو جزوی طور پر مکمل کیا جاچکا ہے جبکہ صرف 5 اقدامات کرنا باقی ہیں۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ 2020 تک گرے لسٹ سے نکل کر وائٹ لسٹ میں آنے کے لیے تکمیل کے مراحل میں موجود ان اقدامات کو بھی پورا کر لیا جائے گا۔اپنے ایک اور ٹوئٹ میں وفاقی وزیر نے بتایا کہ یہ بات ذہن میں رکھنی ہوگی کہ پاکستان کو دنیا میں کسی بھی ملک سے زیادہ چیلنجنگ ایکشن پلان کا سامنا ہے۔دوسری جانب فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے پاکستان کو بدستور گرے لسٹ میں برقرار رکھتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ اگر فروری 2020 تک خاطر خواہ اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کو بلیک لسٹ میں بھی ڈالا جا سکتا ہے۔ پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے صدر ژیانگ من لیو نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فروری 2020 کی ڈیڈ لائن تک گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ نئی حکومت کے آنے کے بعد منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے جس کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں تاہم پاکستان کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔