پاناما لیکس پر مبنی ہالی وڈ فلم ریلیز ۔۔۔ نواز شریف کا کردار کون ادا کر رہا ہے؟ فلمی دنیا سے حیرت انگیز خبر

نیویارک (ؤیب ڈٰیسک) آن لائن ویب اسٹریمنگ ادارے ’نیٹ فلیکس‘پر بنائی گئی فلم کے خلاف مقدمہ دائر ہونے کے باوجود اسے ریلیز کردیا۔نیٹ فلیکس‘ کی جانب سے بنائی گئی فلم ’دی لانڈرو میٹ ‘ کے خلاف پاناما کے فرم ’موزیک فانسیکا‘ کے دونوں سربراہوں نے مقدمہ دائر کیا تھا۔لا فرم ’موزیک فانسیکا‘ نے

امریکی ریاست کنیکٹیکٹ کی عدالت میں فلم کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے فلم میں دکھائے جانے والے مناظر کو جھوٹا قرار دیا تھا اور عدالت سے اسے روکنے کی التجا کی تھی۔فلم کے خلاف ’موزیک فانسیکا‘ کے سربراہوں جرمن قانون دان یرگن موزیک اور پاناما کے وکیل رامون فانسیکا نے ’نیٹ فلیکس‘ کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔تاہم مقدمہ دائر ہونے کے باوجود ’نیٹ فلیکس‘ نے فلم کو 18 اکتوبر کو ریلیز کردیا۔فلم کو جہاں نیٹ فلیکس پر جاری کردیا گیا، وہیں اسے امریکا سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے مخصوص سینما گھروں میں بھی ریلیز کردیا گیا۔بر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق مقدمہ دائر ہونے کے باوجود نیٹ فلیکس نے فلم کو جاری کردیا جب کہ کنیٹیکٹ کی عدالت نے مقدمے کو لاس اینجلس کی فیڈرل کورٹ منتقل کردیا۔کنیٹیکٹ کی ریاستی عدالت کے مطابق فلم کو روکنے کا معاملہ ریاستی نہیں بلکہ فیڈرل کورٹ کا معاملہ ہے، اس لیے اسے لاس اینجلس منتقل کیا جا رہا ہے۔دوسری جانب ’نیٹ فلیکس‘ نے فلم کو روکے جانے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فلم کی کہانی حقیقی واقعات پر مبنی ہے۔نیٹ فلیکس کے مطابق فلم کی کہانی دنیا بھر میں تہلکہ مچانے والے حقیقی واقعات کے گرد گھومتی ہے، اس لیے فلم کی کہانی کو جھوٹا کہنا غلط ہے۔خیال رہے کہ فلم کی کہانی ’موزک فانسیکا‘ کے دونوں قانون دانوں کے گرد گھومتی ہے۔فلم کے جاری کیے گئے ٹریلر میں دکھایا گیا تھا کہ کہ کس طرح ان دونوں وکلا کا بنایا گیا ادارہ دنیا بھر کے امیر ترین و طاقتور ترین افراد کو ٹیکس سے بچنے کے لیے آف شور کمپنیاںب بنا کر دینے کی خدمات فراہم کرتا ہے۔فلم کے جاری کیے گئے ٹریلر میں ’موزیک فانسیکا‘ کے دونوں سربراہوں کو انتہائی خوشگوار کرداروں میں دکھایا گیا تھا

جو دنیا بھر کے افراد کو خدمات پیش کرتے ہیں۔ٹریلر میں یہ بھی دکھایا گیا تھا کہ قانونی فرم کی دستاویزات لیک ہونے کے بعد کس طرح دنیا بھر میں تہلکہ مچ جاتا ہے۔ٹریلر میں دکھایا گیا تھا کہ دنیا بھر میں ’موزیک فانسیکا‘ کی خدمات کی وجہ سے سرعام کرپشن ہو رہی ہے۔فلم میں موزیک فانسیکا کے وکلا کا کردار اداکار گیری اولڈمین اور انتونیو بندیراس نے ادا کیا ہے’موزیک فانسیکا‘ نامی آف شور کمپنیوں کا قانونی ادارہ ’پاناما‘ سے تعلق رکھتا تھا جو دنیا کے امیر ترین لوگوں کو آف شور کمپنیاں بنا کر انہیں ٹیکس بھرنے سے بچانے میں مدد فراہم کرتا تھا۔اسی ادارے کی جانب سے پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف، بے نظیر بھٹو، روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان، آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر بشارالاسد سمیت کئی امیر ترین و طاقتور ترین افراد کو آف شور کمپنیاں بنوانے میں قانونی مدد فراہم کی۔آف شور کمپنیاں بنائے جانے سے یہ افراد ٹیکس بھرنے سے بچ گئے تھے،موزیک فانسیکا کے نجی ڈیٹا بیس سے 2.6 ٹیرا بائٹس پر مشتمل دستاویزات لیک ہوئی تھیں جن کی International Consortium of Investigative Journalists نے جرمن اخبار کے ساتھ مل کر تحقیق کی تھی۔دنیا بھر سے درجنوں صحافیوں نے پاناما لیکس کی تحقیقات میں حصہ لیا تھا اور اس اسکینڈل میں پاکستان کے تقریبا 500 افراد کے نام سامنے آئے تھے۔دنیا میں تہلکہ مچانے والے پاناما اسکینڈل سامنے آنے کے بعد 2018 میں موزیک فانسیکا کو بند کردیا گیا تھا۔اسی اسکینڈل میں نام آنے پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سپریم کورٹ نے 28 جولائی 2017 کو نااہل قرار دیا تھا۔