مولانا فضل الرحمٰن تو برے پھنسے ۔۔۔ حکومت نے فوج کے ساتھ ملکر ایسا کام کرنے کا سوچ لیا کہ خاکی وردی والوں کے ہوش اڑ گئے

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے نمٹنے کےلئے تیاریاں شروع کردیں ،وفاقی حکومت کی جانب سے اسلام آباد میں فوج طلب کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق حکومت نے آزادی مارچ اور دھرنے سے نمٹنے کےلئے عملی

تیاریاں شروع کر دی ہیں ، حکومت کی جانب سے سرکاری عمارات ، غیر ملکی سفارت خانوں اور اہم تنصیبات پر فوج تعینات کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، آرٹیکل 245کے تحت سول انتظامیہ کی مدد کے لئے فوج طلب کی جائے گی، فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ حکومتی کمیٹی کے مذاکرات کی ناکامی کے بعد کیا جائے گا، فوج کی طلبی کا حتمی فیصلہ وزارت داخلہ کرے گی۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ احتجاج پر حکومت مختلف آپشن پر غور کر رہی ہے، احتجاج کرنا کسی بھی سیاسی جماعت کا جمہوری حق ہے اور پی ٹی آئی مذاکرات کے ذریعے معاملات کو حل کرنے کی کوشش جاری رکھے گی لیکن عوام کے مال و جان کی حفاظت کیلئے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں، واضح رہے کہ آرٹیکل 245 کے نفاذ کے بعد اس علاقے میں ہائیکورٹ کے اختیارات ختم ہو جاتے ہیں۔ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سینئر صحافی اور کالم نگار اعزا ز سید اپنے آج کے کالم ’’راج نیتی کے ماہر اورنیا چھانگا مانگا‘‘ میں لکھتے ہیں کہ۔۔۔ جنرل پرویز مشرف کے عروج کے دنوں کی بات ہے، جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں متحدہ مجلس عمل یا ایم ایم اے نےاس وقت خیبر پختونخوا میں حکومت بنا رکھی تھی۔ظاہر ہے یہ حکومت پرویز مشرف کی مرضی سے ہی بنی تھی مگر پرویز مشرف اور ایم ایم اے میں نوک جھونک اور فرینڈلی فائرنگ بھی ہوتی رہتی تھی۔ مشرف روشن خیال اعتدال پسندی کے حامی تھے تو ایم ایم اے کے زعما اسلام کے داعی۔ 2005ء تک ایک وقت ایسا آیا کہ متحدہ مجلس عمل پرویز مشرف کے خلاف ایسے کھل کر میدان میں آئی کہ فوجی ڈکٹیٹر خود تلملا اٹھا۔ اس وقت کے آئی بی کے سربراہ کو طلب کرکے ایم ایم اے کا ’’بندوبست‘‘ کرنے کا حکم دیا گیا۔آئی بی نے ایک افسر کی ڈیوٹی لگائی، ہوم ورک کیا گیا اور اسی کی روشنی میں پارلیمنٹ لاجز میں ایک خاص قسم کی ایمبولینس کھڑی کروائی گئی۔