آزادی مارچ میں شامل ہونے والے بچے نہیں ہوں گے، بالغ ہوں گے، صاحبہ چیک کرکے تسلی کر سکتی ہیں، حافظ حسین احمد کی زرتاج گل کے ساتھ ناقابل یقین گفتگو ۔۔۔ زرتاج گل نے کیا جواب دیا؟ جانیے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے رہنما حافظ حسین احمد نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کے دوران تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایک بار انہوں نے کہا تھا کہ یہ چھوٹے چھوٹے معصوم بچے لے کر آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ کل وہ بڑے پریشان تھے

کہ ان معصوم بچوں کی داڑھیاں کہاں سے آئی ہیں، پشاور میں ہزاروں لوگ جمع تھے، حافظ حسین احمد نے کہا کہ ان کا شناختی کارڈ بھی چیک کر سکتے ہیں اور زرتاج گل صاحبہ جس انداز میں بھی اپنا اطمینان کر سکیں کہ وہ بچے بالغ ہیں یا نہیں، انشاء اللہ بچے نہیں ہوں گے 18 سال کے ہوں گے اور ان کے پاس شناختی کارڈ بھی ہو گا اور وہ ووٹر بھی ہوں گے یہ جس طرح چاہیں اپنی تسلی کر لیں۔ پروگرام کے دوران موجود تحریک انصاف کی رہنما زرتاج گل نے حافظ حسین احمد کی اس بات پر صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا۔دوسری طرف مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کے حوالے سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی فہرست تیار کرلی گئی ، وزیر دفاع پرویز خٹک نے منظوری کیلئے وزیر اعظم کو بھیج دیئے ۔ ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے مجوزہ ناموں کی فہرست وزیراعظم کو بھجوا دی،وزیراعظم عمران خان کمیٹی کے حتمی ناموں کی منظوری دیں گے۔ ذرائع کے مطاق مذاکراتی کمیٹی میں صوبوں کے ارکان کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،مجوزہ ناموں میں صوبائی ارکان کے نام بھی تجویز کیئے گئے ہیں ،مذاکراتی کمیٹی کے ناموں پر اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیاجائے گا۔ ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی، محمد میاں سومرو، اسد عمر سمیت دیگر نام تجویز کئے گئے ہیں ، ذرائع نے بتایاکہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال اور سینٹر فدا خان کا نام بھی تجویز کیا گیا ۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے علماء سے درخواست کی ہے

کہ آزادی مارچ رکوانے کیلئے علماء کرام کردارادا کریں، وزیراعظم نے علماء کرام سے مدارس ریفارمز پر بھی غورکیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت علماء مشاورتی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ اور مدارس ریفارمز پرغورکیا گیا۔اجلاس میں اہم حکومتی شخصیات بھی شریک ہوئیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نے علماء کرام سے آزادی مارچ رکوانے کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے۔ دوسری جانب مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ کے حوالے سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی کی فہرست تیار کرلی گئی ، وزیر دفاع پرویز خٹک نے منظوری کیلئے وزیر اعظم کو بھیج دیئے ۔ذرائع کے مطابق وزیر دفاع پرویز خٹک نے مجوزہ ناموں کی فہرست وزیراعظم کو بھجوا دی،وزیراعظم عمران خان کمیٹی کے حتمی ناموں کی منظوری دیں گے۔ذرائع کے مطاق مذاکراتی کمیٹی میں صوبوں کے ارکان کو بھی شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ،مجوزہ ناموں میں صوبائی ارکان کے نام بھی تجویز کیئے گئے ہیں ،مذاکراتی کمیٹی کے ناموں پر اتحادیوں کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی، محمد میاں سومرو، اسد عمر سمیت دیگر نام تجویز کئے گئے ہیں ، ذرائع نے بتایا کہ وزیر اعلی بلوچستان جام کمال اور سینٹر فدا خان کا نام بھی تجویز کیا گیا ۔مزید برآں وزیردفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے میرا کوئی ذاتی اختلاف نہیں ہے،دھرنے کے پیچھے کوئی ملک دشمن ایجنڈا نظر نہیں آرہا، سب پاکستانی ہیں،دوچاردنوں میں اپوزیشن رہنماؤں سے ملاقاتیں شروع ہوجائیں گی، دھرنا ڈی چوک پہنچنے سے پہلے معاملہ حل کریں گے۔