اب بھی کہو کہ ’’ عمران خان ناکام ہوگیا ۔۔۔‘‘ تحریک انصاف کی حکومت نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا، 4 ماہ میں پاکستان کا قرضہ کتنے کھرب کم ہوگیا؟ جانیئے

لاہور(نیوز ڈیسک ) تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آنے لگے، 4 ماہ کے دوران ملکی قرضوں میں 8 کھرب روپے سے زائد کی کمی، جولائی سے لے کر اب تک کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت میں 8 روپے سے زائد کی کمی ہونے کے باعث ملکی قرضوں کے حجم میں بھی

کمی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق تحریک انصاف کی معاشی پالیسیوں کے کچھ مثبت نتائج برآمد ہونے لگے ہیں۔تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے کچھ ماہ قبل آئی ایم ایف کے رکن رضا باقر کو اسٹیٹ بینک کا گورنر تعینات کیا گیا تھا۔ رضا باقر کی تقرری پر کچھ حلقوں کی جانب سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان میں ڈالر کی قیمت 200 روپے تک جا سکتی ہے، جس سے ملک میں مہنگائی کا ناقابل برداشت طوفان آئے گا اور معیشت تباہ ہو جائے گی، تاہم ان خدشات کے برعکس گزشتہ 4 ماہ کے دوران کرنسی مارکیٹ میں روپے نے ڈالر کے مقابلے میں زبردست کارکردگی دکھائی ہے۔گزشتہ 4 ماہ کے دوران امریکی ڈالر 8 روپے سے زائد سستا ہوا ہے۔ اس وقت پاکستان کی کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 156 روپے کی سطح سے نیچے آ چکی ہے۔ جبکہ 4 ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں کمی سے ملکی قرضوں کا حجم بھی کم ہوا ہے۔ 4 ماہ کے دوران ملکی قرضوں کے کل حجم میں 8 سو ارب روپے سے زائد کی کمی ہوئی ہے۔ جبکہ اس دوران پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہونے کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے اور ایک ہفتے کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جو 15 کروڑ ڈالر اضافے سے 15 ارب 14 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے۔ تاسٹیٹ بینک کے ذخائر 5 کروڑ 60 لاکھ ڈالر اضافے سے 7 ارب 81 کروڑ ڈالر جبکہ بینکوں کے ذخائر 9 کروڑ 81 لاکھ ڈالر اضافے سے 7 ارب 32 کروڑ ڈالر کی سطح پر موجود ہیں۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ترسیلات زر، بیرونی سرمایہ کاری اور برآمدات میں اضافے کے ساتھ ساتھ سعودیہ عرب سے ملنے والے ادھار تیل کی سہولت سے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہورہا ہے۔