ریکوڈِک کیس: عمران خان کی ایک ملاقات کا اثر۔۔۔ معروف کمپنی نے 6 ارب ڈالر کا جرمانہ معاف کر کے پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کا اعلان کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ریکوڈکیس جرمانے میں اہم پیش رفت، کمپنی نے جرمانہ واپس لینے پر آمادگی ظاہر کر دی ، کمپنی نے پاکستان میں دوبارہ سرمایہ کاری کے لیے بھی حامی بھر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق معروف صحافی ضمیر حیدر کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے گفتگو کے بعد

ریکوڈک کیس میں اہم پپیش رفت ہوئی ہے، کمپنی نے جرمانہ واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے اور ایک بار پھر پاکستان میں دوبارہ سے سرمایہ کاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کمپنی ایگزیکٹیو سے ملاقات ہوئی تھی،جس میں کمپنی نے نہ صرف جرمانہ نہ لینے کی حامی بھری بلکہ پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔پاکستان نے مذکورہ کمپنی کو گارنٹی بھی دی ہے۔کمپنی کا خیال ہے کہ پاکستان میں سونے اور تانبے کے وسیع ذخائر موجود ہیں۔


دوسری جانب گورنرسٹیٹ بینک رضا باقر کا کہنا ہے آئندہ چند ماہ کے دوران مہنگائی کی شرح میں کمی کی توقع کی جا سکتی ہے ،شرح سود کوموجودہ سطح پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ گورنرسٹیٹ بینک رضا باقر نے غیر ملکی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ معاشی سست روی اور افراط زر میں کمی کے درمیان استحکام پیدا کرنا ہوگا، شرح سود کو فی الوقت موجودہ سطح پر برقرا رکھا جا سکتا ہے ، رضا باقر کا کہنا تھا کہ افراط زر میں اتنی تبدیلی نہیں آئی کہ شرح سود میں کمی کی جائے ،آئندہ چند ماہ میں افراط زر کی شرح میں کمی متوقع ہے ۔ گورنر سٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان چین سے تعلقات کوبہت اہمیت دیتا ہے، پاکستان مزید ممالک سے بھی تعلقات میں بہتری چاہتا ہے، انہوں نے کہا کہ پاکستان کوبچت کی شرح میں اضافہ کرنا ہو گا، بچت میں اضافے سے آئی ایم ایف قرض سے بچا جا سکے گا، رضا باقر نے کہا کہ معاشی شرح نموسست روی کاشکار ہے۔ غیر ملکی جریدے کا کہنا کہ پاکستان میں شرح سود اس وقت جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے ،جنوری2018 کے مقابلے میں شرح سوددگنی ہو چکی ہے ،شرح سود میں اضافہ افراط زر کی شرح کنٹرول کرنے کے لئے کیا گیا،غیر ملکی جریدے نے کہا کہ مہنگائی میں اضافے کی شرح 11 فیصدسے زائد ہو گئی ہے ،اے ڈی بی نے پاکستان میں شرح نمو3 اعشاریہ 3 فیصد تک رہنے کی پیش گوئی کی ہے ،پاکستان کے سٹیٹ بینک کے مطابق معاشی شرح نمو3 اعشاریہ 5فیصد رہے گی۔