بریکنگ نیوز: جمعیت علمائے اسلام میں ہلچل۔۔۔ 2 بڑی گرفتاریاں ہوگئیں

اسلام آباد ( ویب ڈیسک) نیب اِن ایکشن، جمعیت علمائے اسلان فضل الرحمان کے رہنماء اور کے پی کے اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اکرم خان درانی کے خلاف انکوائری تیز کرتے ہوئے 2 افراد کو گرفتار کر لیا ، احتساب عدالت نے غیرقانونی بھرتی کیس میں ملزمان کا 13 روزہ ریمانڈ بھی منظور کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق کے پی کے اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور جمعیت علمائے اسلام کے اہم لیڈر اکرم خان درانی کے خلاف بطور سابق وزیر ہاوسنگ انکوائری کی جار ہی ہے، اکرم خان درانی پر الزام ہے کہ انہوں نے بطور وزیر غیر قانونی طور پر بھرتیاں اور تعیناتیاں کیں، اس کیس میں نیب کی جانب سے مختار بادشاہ خٹک اور محمد عاطف نامی افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، مختار بادشاہ بطور ممبر ڈپارٹمنٹل سلیکشن کمیٹی اور چیف ایڈمن پاک پی ڈبلیو ڈی غیر قانونی طور پر بھرتیاں کرتے رہے، جبکہ محمد عاطف ملک پردرخواست گزاروں کوپی ڈبلیو ڈی میں نوکریوں کے لیے جعلی دستاویزات دینے کا الزام ہے۔ میں مختار بادشاہ خٹک اور عاطف ملک کو احتساب عدالت کے جج محمد بشیر کے روبرو پیش کیا گیا۔نیب نے 14 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی ۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ مختار بادشاہ پی ڈبلیو ڈی کے چیف ایڈمن آفیسر ہیں،ملزمان نے بھرتیوں میں غیر قانونی طریقے سے بھرتیاں کی تھیں۔ نیب پراسیکیوٹر نے کہاکہ لوگوں کی جعلی ڈومسائل بنا کر بھرتیاں کی ہیں،ملزمان اکرام درانی سے ملتے رہے ہیں،یہ دیکھنا ہے اکرام درانی کا کیا رول ہے۔دلائل سننے کے بعد عدالت نے ملزمان کے 13 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا۔
یہاں پر یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ گزشتہ ماہ قومی احتساب بیورو کی جانب سے اکرم خان درانی اور ان کے بیٹے جو کہ بنوں سے رکن قومی اسمبلی ہیں، زاہد درانی کو طلب کیا تھا ، نیب کی جانب سے آمدن سے زائد اثاثہ جات کی تحقیقات اور ہاؤسنگ فاؤنڈیشن کے دو منصوبوں ٹھیلیاں اور بہارہ کہو پراجیکٹ سے متعلق اکرم خان درانی کو 7 اکتوبر پر طلب کیا تھا جہاں ان سے نیب راولپنڈی کی ٹیم نے 4گھنٹوں سے زائد وقت تک تحقیقات کی گئیں،