بڑے کام کی خبر : عمران خان کے ساتھ دورہ ایران پر جانیوالے ڈی جی آئی ایس آئی نے کیا کارنامہ سر انجام دے دیا ؟ جان کر آپ عش عش کر اٹھیں گے

لاہور(ویب ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے دورے سے سعودی عرب، ایران میں ٹھنڈے پڑنے والے تعلقات میں گرمی آنا شروع ہوگئی، پاکستان کی طرف سے خبر دار کیا گیا کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی کوئی اور شروع کروانا چاہتا ہے، دونوں ممالک کوتحمل سے سوچنا چاہیے، ایرانی لیڈرشپ نے ڈی جی آئی ایس آئی

کی انٹیلی جنس معلومات سے مکمل اتفاق کیا ہے ۔ سینئر تجزیہ کار صابرشاکر نے دھرنے اوروزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ دھرنے والوں کے ارادے اچھے نہیں ہیں، ان کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان بہت زیادہ تناؤ اور غلط فہمیاں پیدا ہو چکی ہیں، دونوں ایک دوسرے نظر بھی ڈالنا نہیں چاہتے۔ طاقتورقوتیں بھی چاہتی ہیں کہ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جنگ ہو، تاکہ ان کا اسلحہ فروخت ہواور مسلمان بھی کمزور پڑجائیں۔ یمن اور شام میں بھی شیعہ سنی والے معاملات چل رہے ہیں۔ سعودی آئل ریفائنری پر میزائل داغ دیے گئے، اس سے حالات مزید ابتر ہوگئے، پاکستان سعودی عرب اور ایران دونوں کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کررہا ہے۔ان کو خبردار کیا گیا ہے کہ یہ معاملہ سادہ نہیں ہے۔ بلکہ کچھ قوتیں دونوں ملکوں کو جنگ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں ہوئیں۔ ایران کو چند معلومات دی گئی ہیں ، کہ سعودی عرب اور ایران کی لڑائی میں کوئی دوسرا شامل ہے۔ لہذا خطے میں امن واستحکام کے لئے دونوں ممالک کوتحمل سے سوچنا ہو گا ۔ ڈی جی آئی ایس آئی نے بھی کچھ انٹیلی جنس معلومات شیئر کی ہیں، ایرانی لیڈرشپ نے ان معلومات پر اعتماد کیا اور مصدق مانا ہے۔ وزیراعظم عمران خان اب ایرانی قیادت کا پیغام لے کرسعودی عرب روانہ ہوں گے۔ جہاں وزیراعظم عمران خان چیزیں سعودی ولی عہد کے ساتھ شیئر کریں گے۔ وزیراعظم عمران خان کے دورہ ایران سے برف ضرور پگھلی ہے۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی ملاقات ایرانی انٹیلی جنس چیف کے ساتھ بھی ہوئی ہے۔ پاکستان قیادت نے ان سے بھی کافی چیزیں ڈسکس کی ہیں۔ سعودی عرب میں سعودی انٹیلی جنس چیف سے بھی تمام چیزیں شیئر کی جائیں گی۔