حیرت انگیز خبر : نوازشریف نے شہبازشریف سے جیل میں ملنے سے انکارکردیا

لاہور (ویب ڈیسک) سینئر تجزیہ کار مبشر لقمان نے کہا ہے کہ نوازشریف نے شہبازشریف سے جیل میں ملنے سے انکارکردیا ، شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اگر دھرنا ناکام ہوا تو حکومت کو نئی زندگی مل جائے گی، ن لیگ جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائی ان کو نقصان ہوا،اب دونوں میں اختلافات کی بات ڈھکی چھپی نہیں۔

انہوں نے ن لیگ کے اجلاسوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ فضل الرحمان کی لگائی ہوئی آگ نے ن لیگ کو بالآخر اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، کچھ لوگ کہتے ہیں کہ نوازشریف اور شہبازشریف کی سوچ میں بڑا فرق ہے،شہبازشریف نوازشریف کے نہیں بلکہ آصف زرداری کے بھائی ہیں۔کیونکہ ان دونوں کی سوچ ایک جیسی ہے جبکہ نوازاور شہباز کی سوچ میں بڑ افرق ہے۔دونوں کی سیاست بھی مختلف رہی ہے۔شہبازشریف ہمیشہ سمجھوتہ پسند کرتے ہیں جبکہ نوازشریف نے ہمیشہ اپنے پیروں پر خود کلہاڑی ماری ہے، بعض اوقات کلہاڑی دور پڑی ہوتی ہے اور وہ خود جاکر کک ماردیتے ہیں، رہی سہی کسر مریم اور ان کی ٹیم نے پوری کردی۔ جب تک شہبازشریف کے مشورے مانتے رہے حکومت میں رہے،اور سکھی بھی رہے،اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شہبازشریف نے نوازشریف کو ہمیشہ سنجیدہ مشورہ دیا کہ لڑائی اور جارحانہ سیاست نہ کریں، اداروں کا احترام کریں۔لیکن نوازشریف کی عزت پر حرف آتا ہے۔لیکن مسائل تب سے شروع ہوئے جب سے نوازشریف نے مریم اور اپنے داماد کی ماننی شروع کی۔جبکہ مریم نوازشریف نے خود کو کلثوم نوازکا کردار ادا کرنا شروع کردیا ہے۔ کلثوم نوازتو بڑی نیک خاتون تھیں۔ذی شعور تھیں اور فیملی کو بھی اکٹھا رکھا ہوا تھا۔جب تک وہ تقریریں لکھتی تھیں تو میاں صاحب کی پالیسی بڑی متوازن ہوتی تھی۔نوازشریف نے مولانا کی حمایت کا اعلان بھی کردیا ہے۔نوازشریف نے شہبازشریف کو جیل میں ملنے سے انکارکردیا ہے۔اب دونوں میں اختلافات کی بات ڈھکی چھپی نہیں، ایک جانب شہبازشریف کہتے کہ میں فیصلوں سے اختلاف کرسکتا ہوں لیکن فیصلے کا اختیار نوازشریف کو ہے۔شہبازشریف کا کہنا ہے کہ اگر دھرنا ناکام ہوا تو حکومت کو نئی زندگی مل جائے گی، ن لیگ جب بھی اسٹیبلشمنٹ سے ٹکرائی ان کو نقصان ہوا۔پارٹی شہبازشریف مائنس ہوچکا ہے، کیونکہ اب فضل الرحمان کو نوازشریف کا پیغام کیپٹن صفدر براستہ حسین نوازپہنچایا جارہا ہے۔نوازشریف نے پہلے زبانی پیغام پہنچایا پھر اب خط کے ذریعے تحریری پیغام بھی پہنچا یا ہے۔ دوسری جانب سیکرٹری جنرل ن لیگ احسن اقبال نے دیگر رہنماوں کے ہمراہ میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اجلاس میں نواز شریف کی جانب سے لکھے گئے خط کی

روشنی میں آئندہ کے لائحہ عمل بارے مشاورت ہوئی ہے ۔نواز شریف نے خط کے ذریعے بلیک اینڈ وائٹ میں مکمل روڈ میپ دیدیا ہے ۔ اس حوالے سےمسلم لیگ (ن) کا اعلیٰ سطحی وفد آج (اتوار) کے روز مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کر ے گا اور انہیں نواز شریف کا پیغام پہنچانے سمیت آزادی مارچ کے حوالے سے مشترکہ پروگرام کو حتمی شکل دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف نے آزادی مارچ کے مقاصد سے اتفاق کرتے ہوئے انہیں اجاگر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ آج معیشت تباہی کی وجہ سے ایک جانب لڑھک رہی ہے او رملک کی سلامتی کو شدید خطرات لا حق ہو رہے ہیں ۔خاص طو رپر عوام مہنگائی اور بیروزگاری کی وجہ سے تنگ ہیں ، معیشت تباہ حال ہونے کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال خراب ہو رہی ہے جس سے کرائم کی شرح میں اضافہ ہوا ہے ۔ نواز شریف کی ہدایت ہے کہ ایک بھرپور مہم شروع کی جائے تاکہ اس حکومت سے نجات حاصل کر سکیں اور اجلاس کے شرکاء نے نواز شریف کی ہدایات کی مکمل تائید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ اجلاس کے حوالے سے سامنے آنے والی خبروں کے حوالے کہا کہ پارٹی پالیسی دینے کے تین لوگ پارٹی صدر ، سیکرٹری جنرل اور سیکرٹری اطلاعات مجاز ہیں اوراگر اس کے حوالے سے کوئی خبر دیتا ہے یا فیڈ کرتا ہے تو اس کا جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہوگا ، اس طرح کی خبر شائع یا ٹیلی کاسٹ کی جائے گی تو ہمیں اس کی تردید کرنا پڑے گی ۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف پارٹی قائد نواز شریف اور جنرل کونسل کی منظوری کے بعد صدر منتخب ہوئے ہیں او روہی صدر رہیں گے اور اس کے علاوہ کسی کو دورائے نہیں رکھنی چاہیے ۔ مسلم لیگ میں کوئی اختلاف او رتقسیم نہیں ہے ، نواز شریف کے نظریے پر تمام قیادت او رکارکنان اعتماد رکھتے ہیں ۔ پارٹی میں لوگوں کی مختلف رائے ہو سکتی ہے لیکن جب قائد کا فیصلہ ہوتا ہے تو وہ سب کا فیصلہ ہوتا ہے اس لئے تقسیم کی افواہ ساز فیکٹریاں بند ہو جانی چاہیے ۔انہوں نے مارچ میں (ن) لیگ کی جانب سے قیادت اور شہباز شریف کی صحت کے حوالے سے سوال کے جواب میں کہا کہ شہباز شریف کی صحت کے حوالے سے سب آگاہ ہیں اور ہماری سیاست کا المیہ ہے کہ لوگوں کی بیماری کو بھی متنازعہ بنا دیا جاتا ہے ۔ ہمارے قائد نواز شریف کا جو وژن ہے اس پر سو فیصد عملدرآمد ہوگا ۔ ہم مولانا فضل الرحمان کے مارچ کے مقاصد سے دو سو فیصد اتفاق کرتے ہیں اور اس میں شرکت کا طریق کار کیا ہوگا اس کے بارے میں خط میں واضح لکھا ہوا ہے ، پہلے اسے مولانا فضل الرحمان سے شیئر کریں گے اور اس کے بعد باقاعدہ اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سربراہی کا کوئی جھگڑا نہیں ، یہ مارچ جے یو آئی (ف) کا ہے اور مولانا فضل الرحمان ہی اس کی قیادت کریں گے جبکہ مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی اور دیگر جماعتیں اپنے پروگرام کے مطابق شریک ہوں گی ۔