مولانا فضل الرحمٰن کا مذہبی کارڈ بھی ناکام کر دیا گیا ، وزیراعظم اور آرمی چیف نے شاندار کارروائی ڈال دی ، مولانا جی کہیں کے نہ رہے

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کی نامور خاتون کالم نگار قدسیہ ممتاز مولانا فضل الرحمٰن کے عزائم کو بے نقاب کرتے ہوئے اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔آج مولانا فضل الرحمن دھرنا دینے کے لیے نکلے ہیں۔ حالات کیا ہیں؟ عمران خان اور فوج میں مثالی تال میل موجود ہے۔ مکمل طور پہ بٹی ہوئی

اپوزیشن جو عمران خان کی شدید مخالف اور زخم خوردہ ہے، ان کے ساتھ نہیں ہے۔عمران خان کی براہ راست حریف جماعت نون لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ شرکت کا فیصلہ پارٹی کریگی۔ دوسری متاثرہ جماعت پیپلز پارٹی کے مصطفیٰ کھوکھرکا کہنا ہے کہ معاملہ پارٹی کی کور کمیٹی میں ہے۔سراج الحق نے کہا کہ ہمیں دعوت نہیں ملی۔حاصل بزنجو ،آفتاب شیرپائو ،میاں افتخار،ثنا بلوچ،مصطفی کمال نے بھی ایسے ہی خیالات کا اظہار کیا۔ دو بڑی جماعتوں کا سیدھا سا مسئلہ ہے۔ نون لیگ اینٹی اسٹبیشمنٹ بیانیے پہ اپنے سارے کارڈ پہلے ہی کھیل کر منہ کی کھا چکی ہے۔ پیپلز پارٹی کا تقریبا ہر بڑا رہنما بدترین کرپشن کے الزامات کی زد میں ہے ۔ ایسے میں ان کا حکومت کے خلاف سڑکوں پہ آنا صرف اپنی کرپشن بچانے کا ایجنڈا ہوگا ، عوام کو جس سے کیا غرض ہوسکتی ہے۔ لے دے کر مولانا فضل الرحمن کے پاس ایک مذہبی کارڈ رہ گیا تھا، پیپلز پارٹی جس کی شدید مخالف ہے کہ بلاول کے نانا پہ ایک طبقے کی طرف سے مذہبی دباو ٔمیں شراب پہ پابندی اورقادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا الزام ہے تو دوسری طرف وہ تحریک نظام مصطفی کی متاثرہ ہے۔اقوام متحدہ میں عمران خان کی ناموس رسالت پہ امت کی موثر ترجمانی اور مسلم نوجوانوں میں اشتعال کا سبب مغرب کو ٹھہرانے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مسلمانوں کی پوزیشن واضح کرنے نے اس مذہبی کارڈ کو اڑا کر رکھ دیا۔وہ مدرسوں میں اصلاحات اور مدرسے کے فارغ التحصیل طلبا کو قومی دھارے میں لانے کے لئے بھی کوشاں ہیں۔ ایک کارڈ مہنگائی اور معاشی سست روی کا رہ گیا تھا جس پہ تاجر سراپا احتجاج تھے اور یہی موثر بھی ہوسکتا تھا۔ آرمی چیف اور وزیر اعظم دونوں نے ان سے ملاقات کرلی اور نیب کو بھی اشارہ کیا کہ ذرا مشکیں ڈھیلی کرے وہ اس نے کردی ہیں۔ اب مولانا کے پاس ایک ہی راستہ رہ گیا ہے کہ وہ کھل کر حکومت سے عرض تمنا کرڈالیں۔