نیسلے کے جوس میں کتنا پانی اور کتنے کیمیکلز ہوتے ہیں ؟ سپریم کورٹ میں ناقابل یقین اعتراف

اسلام آباد (ویب ڈیسک) سپریم کورٹ میں نیسلے کمپنی اور واٹر کمیٹی کے چیئرمین کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ، چیئرمین واٹر کمیٹی ڈاکٹر احسن صدیقی نے کمپنی کے دعوے کوچیلنج کردیا ۔پاکستان 24ویب سائٹ کے مطابق نیسلے کمپنی کے وکیل نے سپریم کورٹ میں بتایا کہ ان کے جوس میں ستر فیصد سے

کم پانی ہوتا ہے تاہم عدالت کے مقرر کردہ چیئرمین واٹر کمیٹی ڈاکٹر احسن صدیقی نے کمپنی کے دعوے کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ جوس میں پانی کی شرح 96فیصد ہوتی ہے جس پر نیسلے کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ ضروری نہیں ہر آدمی ہر چیز میں ماہر ہو جس پر کمیٹی کے چیئرمین نے جواب دیا کہ وہ سائنس دان اور ڈاکٹر ہیں۔عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ سندھ حکومت سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے لگائے چیئرمین واٹر کمیٹی ڈاکٹر احسن صدیقی سے خوش نہیں ہے ۔سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران زیر زمین پانی کے استعمال سے متعلق مقدمے میں سندھ حکومت اور پانی بنانے والی کمپنی نیسلے کی طرف سے واٹر کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر احسن صدیقی پر ناراضی کا اظہار کیا گیااور نیسلے کمپنی اور واٹر کمیٹی کے چیئرمین کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ۔ جسٹس عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کا آغاز کیا تو ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا صوبوں کی طرف سے پانی کی قیمت کے تعین بارے سفارشات فراہم نہیں کی گئیں۔سندھ حکومت کے وکیل نے کہا زیرزمین پانی کے استعمال سے متعلق قانو ن موجود ہے ،پانی فروخت کرنیوالی کمپنیاں جہاں سے پانی نکالتی ہیں وہاں سو فٹ تک ہوا بھی نہیں ملتی جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا لگتا ہے سندھ میں بھی کٹاس راج والی صورتحال پیدا ہونیوالی ہے ۔سپریم کورٹ کے استفسار پر سندھ حکومت کے وکیل نے بتایا کابینہ سے منظور ی تک تجاویز اٹارنی جنرل کو نہیں دے سکتے ،کمیٹی نے جن صنعتوںکی فہرستیں فراہم کیں ان میں میٹر لگ چکے ہیں ،واٹر کمیٹی نے باقی صنعتوں کی فہرستیں فراہم نہیں کیں۔چیئرمین واٹر کمیٹی نے کہا سندھ میں شوگر ملزمالکان ایک ہزار گیلن پانی پر پچا س پیسے ٹیکس دے رہے ہیں۔عدالت نے کہا لگتا ہے حکومت سندھ کمیٹی چیئرمین ڈاکٹر احسن صدیقی سے ناراض ہے۔ڈاکٹر احسن صدیقی بولے ناراضگی کی وجہ یہ ہے میں سمجھوتہ نہیں کرتا ،مجھے عدالتی حکم میں کہا گیا تھر جائیں ، میں تھر جانے کی بات کی تو ایڈووکیٹ جنرل سندھ بولے اتنی جلدی میں کیوں ہیں ؟ جس پر عدالت نے حکومتوں سے تجاویز طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔