رائے ونڈ تبلیغی اجتماع: کب سے شروع ہو گا ؟ دونوں مراحل کے انعقاد کا شیڈول جاری

لاہور (ویب ڈیسک) رائے ونڈ تبلیغی اجتماع کے دونوں مراحل کے انعقاد کا شیڈول جاری کر دیا گیا ہے۔ جس کے مطابق تبلیغی اجتماع کا پہلا مرحلہ یکم نومبر سے شروع ہو کر 3 نومبر کی صبح نماز فجر کے بعد خصوصی دعا کے ساتھ ہو جائے گا جبکہ رائے ونڈ تبلیغی اجتماع کا دوسرا مرحلہ 8 نومبر کو شروع ہو

کر 10 نومبر کی صبح نماز فجر کے بعد اختتام پذیر ہو گا۔اجتماع کے دونوں مراحل میں ملکی اور غیر ملکی مذہبی سکالرز مختلف نمازوں کے بعد بیان دیں گے جبکہ پاکستان ریلوے نے ملک بھر سے تبلیغی اجتماع میں شرکت کرنے والے فرزندان اسلام کی سفری سہولتوں کے لئے 6 ٹرینوں کے شیڈول تبدیل کرتے ہوئے براستہ ساہیوال رائیونڈ کے روٹ مقرر کیے ہیں جن کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا ہے، یہی مسافر ٹرینیں 4 نومبر اور 11 نومبر کو اسی روٹ سے واپسی کا سفر اختیار کریں گی۔دوسری جانب ایک خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے شہبازشریف کیخلاف نیب کی اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کردی، سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ 22 اکتوبر کو اپیلوں پر سماعت کرے گا، نیب نے آشیانہ اورصاف پانی کیس میں شہبازشریف کی ضمانت منسوخی کیلئے درخواست دائر کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کی ضمانت منسوخی کیلئے دائرنیب اپیلیں سماعت کیلئے مقرر کردیں۔سپریم کورٹ کا تین رکنی بنچ نیب کی اپیلوں پر 22 اکتوبر کو سماعت کرے گا۔ نیب نے صاف پانی اور آشیانہ کیس میں شہبازشریف کی ضمانت منسوخی کیلئے عدالت سے رجوع کررکھا ہے۔ اس سے قبل لاہورہائیکورٹ نے شہبازشریف کی دونوں مقدمات میں ضمانت منظور کی تھی۔ واضح رہے قومی احتساب بیورو( نیب ) لاہور نے فروری میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے محمد شہباز شریف کی آشیانہ ہائوسنگ اور رمضان شوگر مل کیس میں ضمانت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ذرائع کے مطابق نیب کے اعلیٰ افسران اور لیگل ٹیم کی جانب سے ہائیکورٹ کے فیصلے اور سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کے حوالے سے مشاورت کی گئی ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ سے تفصیلی تحریری فیصلے کی کاپی ملنے کے بعد اس کا جائزہ لے کر آئندہ کا اقدام اٹھایا جائے گا۔ مزید برآں مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں۔ ن لیگ نے مولانا فضل الرحمان کے 27 اکتوبر کو ہونے والے آزادی مارچ کی سپورٹ کی ہے جبکہ شہبازشریف نے مارچ کی قیادت سے یہ کہہ کر انکار کیا ہے کہ ان کی کمر میں تکلیف ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ شہبازشریف کو اپنے خلاف ایک بار پھر نیب میں گھیرا تنگ ہونے کا خدشہ تھا، جس کے باعث وہ حکومت مخالف کسی بھی تحریک کا حصہ بننے سے گریز کررہے ہیں۔