سابق آرمی چیف جنرل کیانی کا آسٹریلیا میں پورا جزیرہ خریدنے کی خبر۔۔۔ اصل کہانی کیا؟ جانیے

لندن، اسلام آباد(ویب ڈیسک) ایک برطانوی صحافی جیمز ڈی کرکٹن نے دعویٰ کیاتھاکہ پاک فوج کے سابق سربراہ اشفاق پرویز کیانی بھی لاکھوں کی مالیت کا سوئس اکاﺅنٹ رکھتے ہیں جو خلیجی ملک میں موجود ان کے بھائی کے زیراہتمام ہے اور وہ آسٹریلیا میں ایک جزیرے کے بھی مالک ہیں،

اس خبر نے کئی سال بعد ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا کر رکھا ہے تاہم اس ہنگامے سے پہلے ہی اس کی حقیقت سامنے آچکی ہے۔سینئر صحافی انصار عباسی نے دی نیوزمیں لکھا کہ سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی بے بنیاد مہم کی نظر بنے تاہم یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس مہم کے پیچھے کون ہے اور سابق آرمی چیف کو نشانہ بنانے کا مقصد کیاتھا؟یہ تمام الزامات 2015کے پہلے ہاف میں لگے تاہم متعلقہ مقتدار حلقوں کی طرف سے کسی نے اس پر کوئی بات نہیں کی اور نہ ہی اشفاق پرویز کیانی کے دفاع میں کچھ بتایاگیا۔ذرائع کے حوالے سے بتایاگیاکہ ماضی میں انہیں آسٹریلیا جاتے ہوئے بے نظیرانٹرنیشنل ایئرپورٹ اسلام آبادپر ایف آئی اے کی طرف سے روکے جانے کی افواہوں پر انہیں ایک سابق وزیرنے رابطہ کرکے بے بنیاد مہم کا نشانہ بننے پر ہمدردی کا اظہار کیاتھاحالانکہ سرکاری ذرائع نے تصدیق کی تھی کہ ایسا کوئی واقعہ پیش ہی نہیں آیا ، یہ واقعہ بھی اپریل 2015ءمیں وائرل ہوا تھا۔یہ بھی الزام لگایاگیا تھا کہ جنرل کیانی اپنے مالی معاملات کے لیے آسٹریلیا جانا چاہتے تھے ، مزید کہاگیاکہ وہ آسٹریلیا میں ایک جزیرہ خرید چکے ہیں اور مستقل طورپر وہیں قیام کرنا چاہتے ہیں۔اخبار کے مطابق2015جولائی کے وسط تک کی گئی تحقیقات کے دوران یہ تمام افواہیں محض بے بنیاد پراپیگنڈا اور بے بنیاد ثابت ہوئیں جس کی تصدیق اس وقت کے ایک اہم وفاقی وزیر نے بھی کی ۔ انہوں نے بتایاکہ جنرل نہ ہی آسٹریلیا کے لیے سفر کیا اور نہ ہی وزارت داخلہ یا

ایف آئی اے کی طرف سے کسی نے روکا، یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت تک جنرل کیانی صرف ایک مرتبہ اس وقت آسٹریلیا گئے جب وہ آرمی چیف تھے ، جولائی 2015ءتک انہوں نے نہ آسٹریلیا کیا، پاکستان سے باہر کہیں بھی کوئی اثاثے یا جائیداد نہیں بنائی ، ان کا پاکستان کے باہر کوئی بینک اکاﺅنٹ بھی نہیں ہے ، ریٹائرمنٹ کے کچھ عرصے بعد اپنے نجی دورے پر برطانیہ گئے تھے ۔جنرل کیانی کے انتہائی قریبی ایک ریٹائرڈ فوجی افسر نے بتایاکہ ریٹائرمنٹ کے بعد 2015ءتک بسا اوقات ہی سابق آرمی چیف اسلام آباد سے باہر گئے ہوں، بے بنیاد الزامات اور مہم کا نشانہ بنایاگیا، حالانکہ ان کے حلقے میں موجود لوگ بخوبی جانتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی سے اپنے بچوں یا بھائی کے لیے بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ کوئی فیور نہیں لی ۔یہاں یاد دہانی کے لیے یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جنرل کیانی سے ایک مرتبہ اس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہاتھاکہ ان کے بھائی کی کمپنی رنگ روڈ پراجیکٹ میں عدم اطمینان والا کام کررہی ہے تو اشفاق پرویز کیانی نے کسی فیور کی بجائے یہ کہا تھاکہ متعلقہ ادارے جانے اور ان کا کام ، اداروں کو اپنا کام کرنے دیں، اگر وہ کام ٹھیک سے نہ کریں تو کسی اور کو دے دیں۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ یہ معلومات کچھ سال پرانی ہیں، اگر اس کے بعد اشفاق پرویز کیانی نے کچھ جائیدادیں بنائی ہیں تو اس کی تفصیلات جلد منظرعام پر آجائیں گی ۔