نائن الیون سب سے زیادہ حملے تامل ٹائیگروں نے کیے انہیں دہشتگرد کیوں نہیں کہا گیا؟ ، مغربی لوگوں کوسمجھ نہیں آتا کہ پیغمبرﷺکی توہین مسلمانوں کیلیے بہت بڑ ا مسئلہ ہے۔۔۔۔ وزیر اعظم پاکستان کا اقوام متحدہ میں خطاب

واشنگٹن /لاہور( مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ میں یہاں پر بہت سی باتیں کرنا چاہتا ہوں لیکن آج صرف 4 پر ہی بات کرونگا، میں خاص طور پر ایک بات کرنے کے لیے یہاں پر آیا ہوں ، پاکستان کی نمایندگی اپنے لیے اعزاز سمجھتاہوں، میرا تیسرا نقطہ اسلامو فوبیا
ہے،دہشت گردی کا کسی بھی مذہب کیساتھ کوئی تعلق نہیں،بنیاد پرست اسلام یادہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا ،نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ خطرناک ہے ،دہشتگردی کا کسی بھی مذہب کیساتھ کوئی تعلق نہیں،اسلاموفوبیا کی وجہ سے بعض ملکوں میں مسلم خواتین کا حجاب پہننامشکل بنادیاگیاہے،نائن الیون کے بعد سے اسلاموفوبیا میں اضافہ الارمنگ ہے ،اسلام صرف ایک ہے جو حضورﷺ نے ہمیں سکھایا،افسوس کی بات ہے مسلم ملکوں کے سربراہوں نے اس بارے میں توجہ نہیں دی،بنیاد پرست اسلام یادہشت گرد اسلام کچھ نہیں ہوتا ،افسوس کی بات ہے بعض سربراہان اسلامی دہشتگردی اور بنیاد پرستی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں،اسلامو فوبیا کی وجہ سے دنیا میں تقسیم بڑھی ،کچھ عالمی لیڈرز نے دہشت گردی کو اسلام سے جوڑا ، اسلامو فوبیا کی وجہ سے دنیا میں تقسیم بڑھی ، ماضی میں خود کش حملوں اور اسلام کوجوڑا گیا ،پاکستان میں ماضی میں حکومت نے روشن خیال اسلام کی اصطلاح استعمال کی،تامل ٹائیگرز ہندو تھے، لیکن کسی نےہندوازم کودہشتگردی سےنہیں جوڑا،نائن الیون سے پہلے زیادہ تر خودکش حملے تامل ٹائیگرز نے کیے۔تفصیلات کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ حضرت محمد ﷺ ہمارے دلوں میں رہتے ہیں، اگر کوئی انکی شان میں گستاخی کرتا ہے تو ہمارے دلوں میں درد ہوتا ہے، ہمیں تکلیف ہوتی ہے، مغربی لوگوں کوسمجھ نہیں آتا کہ پیغمبرﷺکی توہین مسلمانوں کیلیے بہت بڑ ا مسئلہ ہے،جب اسلام کی توہین پرمسلمانوں کاردعمل سامنے آتا ہے تو ہمیں انتہا پسند کہہ دیا جاتا ہے، موسمیات تبدیلی سے متعلق بہت سے ممالک کے سربراہان نے بات کی ،پاکستان میں 80فیصد پانی گلیشیئرزسےآتاہے، گرین ہاوس گیسز میں پاکستان کا حص انتہائی کم ہے،صر ف ایک ملک کچھ نہیں کرسکتا،سب ملکوں کی ذمے د اری ہے ،امیدکرتاہوں اقوام متحدہ ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں قدم اٹھائے گا، ہر سال اربوں ڈالر غریب ملکوں سے ترقی یافتہ ملکوں میں چلے جاتے ہیں، امیر افراد اربوں ڈالر غیر قانونی طریقے سے یورپ کے بینکوں میں منتقل کردیتے ہیں، ہمارے ملک کا قرضہ 10برسوں میں چار گنا بڑھ گیا،غریب ملکوں کو اشرافیہ طبقہ لوٹ رہا ہے ، اس کے نتیجے میں ٹیکس کی آدھی رقم قرضوں کی ادائیگی میں چلی جاتی ہے،ہمیں مغربی ملکوں میں بھیجی گئی رقم واپس لینے میں مشکلات کاسامنا رہا، امیر ممالک کو چاہیےکہ وہ غیر قانونی ذرائع سےآنیوالی رقم کے ذرائع روکیں،غریب ملکوں سے لوتی گئی رقم غریبوں کی زندگیاں بدلنے پر خرچ ہوسکتی ہے، ہم نےمغربی دارالحکومتوں میں کرپشن سے لی گئی جائیدادوں کا پتا چلایا، امیر ممالک میں ایسے قانون ہیں جوکرمنلز کو تحفظ فراہم کرتے ہیں، کرپٹ حکمرانوں کو لوٹی گئی رقم بیرون ممالک بینکوں میں رکھنے سے روکاجائے۔