بریکنگ نیوز:نیب کی حراست میں خورشید شاہ کو جیل سے کونسی جگہ منتقل کر دیا گیا؟ جیالوں کی دوڑیں لگوا دینے والی خبر

اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ کو طبیعت خراب ہونے پر پولی کلینگ ہسپتال میں داخل کرادیا گیا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق خورشید شاہ کی نیب میں دوران تفتیش طبیعت خراب ہوگئی جس پر انہیں پولی کلینک ہسپتال منتقل کیا گیا ۔ انہیں شعبہ امراض قلب لے جایا گیا

جہاں ڈاکٹرز نے مختلف ٹیسٹ کرنے کے بعد ان کی حالت کو تسلی بخش قرار دے دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ خورشید شاہ کی ای سی جی اور ٹراپ ٹی ٹیسٹ نارمل ہے جس کے بعد شعبہ امراض قلب کے ڈاکٹرز نے ان کی حالت تسلی بخش قرار دیا ہے تاہم انہیں دھڑکن کی بے ترتیبی، سانس اور معدے کی تکلیف ہے۔ ڈاکٹرز نے ان کی دوسری بیماریوں کے پیش نظر دیگر ٹیسٹ کرانے کی تجویز دیتے ہوئے انہیں ہسپتال میں داخل کرلیا ہے۔ جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کے گھر چھاپے کے بعد واپس روانہ ہوگئی ہے۔ذرائع کے مطابق نیب ٹیم نے سابق اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی بنی گالہ اسلام آباد میں قائم رہائش گاہ پر چھاپہ مارا۔ نیب ٹیم کی جانب سے خورشید شاہ کے گھر 3 گھنٹے تک چھان بین کی گئی تاہم نیب اہلکاروں نے وہاں سے کوئی بھی بڑی چیز برآمد نہیں کی۔ ذرائع نے بتایا کہ نیب کی ٹیم تین گھنٹے کی تلاشی کے بعد جاتے ہوئے بجلی کے 2 بلوں کے علاوہ کچھ نہیں لے کر گئی۔خیال رہے کہ نیب نے بدھ کو آمدن سے زائد اثاثہ جات کے کیس میں خورشید شاہ کو ان کی بنی گالہ والی رہائش گاہ سے گرفتار کیا تھا۔ واضح رہے کہ تجزیہ کار مظہر عباس نے کہاہے کہ حکومت کہیں رکتی نظر نہیں آرہی ، اپوزیشن رہنماﺅں کی گرفتاریاں ہورہی ہیں اور حالات ون پارٹی سسٹم کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے مظہر عباس نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کی سیاست کا دارو مدار ہی مذہب پر ہے ، مجھے نہیں لگتا کہ مولانا فضل الرحمان ، پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی جانب سے کسی اصولی اور نظریاتی بنیاد پر یہ فیصلے ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ جائیگی ، ان کا خیال ہے کہ آزادی مارچ کے نتیجے میں حکومت جائے یا نہ جائے لیکن دباﺅ میں آجائے گی جس کا ریلیف ن لیگ کو ملے سکے اور پیپلز پارٹی کوبھی ملے گا ۔مظہر عباس کا کہنا تھا کہ حکومت کہیں رکتی نظر نہیں آرہی ، اپوزیشن رہنماﺅں کی گرفتاریاں ہورہی ہیں اور حالات ون پارٹی سسٹم کی طرف جاتے دکھائی دے رہے ہیں۔